بھارت میں 40 ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ
بھارت میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 40 ہزار 134 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ مثبت کیسز کی شرح دو اعشاریہ آٹھ ایک فی صد رہی۔
بھارت کی وزارتِ صحت کے مطابق ملک بھر میں عالمی وبا کے شکار مزید 422 مریض دم توڑ گئے ہیں۔
ویکسین نہ لگوانے والے دوسروں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں: فاؤچی
متعدی امراض کے چوٹی کے ماہر امریکی ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے ایک مرتبہ پھر ویکسین کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ویکسین نہ لگوانے والے لاکھوں امریکی دوسروں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور صورتِ حال گھمبیر ہوتی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر فاؤچی امریکی صدر جو بائیڈن کے میڈیکل ایڈوائزر بھی ہیں۔ انہوں نے اتوار کو نشریاتی ادارے 'اے بی سی' کے پروگرام 'دِس ویک' میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کی ڈیلٹا قسم تکلیف کا باعث بن رہی ہے اور اس ویرینٹ سے ملک مشکلات سے دوچار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں صحتِ عامہ سے متعلق ایک سنگین چیلنج کا سامنا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ اگر آپ وبا کا شکار ہو جاتے ہیں اور دوسروں کو یہ وائرس منتقل کرتے ہیں تو آپ دوسروں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
ڈاکٹر فاؤچی نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان علاقوں میں ڈیلٹا ویرینٹ تیزی سے پھیل رہا ہے جہاں لوگ ویکسین لگوانے سے انکار کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس صورتِ حال سے متعلق کہا تھا کہ ہم خود کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور غلط سمت میں جا رہے ہیں۔
چین میں ڈیلٹا ویرینٹ پھیلنے کے بعد پابندیوں میں اضافہ
کرونا وائرس کی قسم ڈیلٹا چین میں تیزی سے پھیل رہی ہے اور یہ اب تک 20 سے زائد شہروں اور ایک درجن سے زائد صوبوں میں پھیل چکی ہے۔
ڈیلٹا قسم کی روک تھام کے لیے کئی شہروں میں سخت پابندیاں نافذ ہیں اور لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے جب کہ بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن کا عمل بھی جاری ہے۔
چین کے صوبے ہنان کے وسطی شہر زوزہوا میں سخت لاک ڈاؤن نافذ ہے جہاں حکام نے پیر کو شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ تین روز کے لیے گھروں میں ہی رہیں۔
مقامی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کرونا وبا کے باعث پیدا ہونے والی صورتِ حال بدستور پیچیدہ ہے۔
حکام نے وبا پر قابو پانے کے لیے بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن مہم بھی شروع کر رکھی ہے۔
سندھ میں لاک ڈاؤن: سیاسی الزام تراشی کے شور میں متاثرہ طبقوں کی کون سنے گا؟
پانچ بچوں کے والد سلیم انور کراچی کی مشہور اقبال کلاتھ مارکیٹ میں جوس کارنر چلاتے ہیں۔ ان کی چھوٹی سی دکان ہونے کے باجود وہ اس قدر کما لیتے ہیں کہ اُن کے روزمرہ کے اخراجات آسانی سے پورے ہو جاتے ہیں۔
لیکن کرونا وائرس نے جہاں دیگر لوگوں کو متاثر کیا ہے وہیں ان کے حالات بھی بمشکل سنبھلے ہیں اور اب چوتھی لہر کے باعث مارکیٹیں اور کاروباری مراکز دوبارہ بند کرنے کے اعلان کے بعد انہیں بھی اپنی دکان نو روز متواتر بند کرنا پڑ رہی ہے۔
ان مشکلات کی وجہ سے اُن کے لیے پریشانی یہ ہے کہ دکان اور مکان کا کرایہ، بجلی کا بل اور پھر گھر کے اخراجات اور بچوں کی پڑھائی کے اخراجات وہ اگلے ماہ کس طرح چلا پائیں گے جب کہ پچھلے تین لاک ڈاؤن میں وہ اپنی جمع پونجی خرچ کر چکے ہیں۔
صرف سلیم ہی نہیں بلکہ ایسے لاکھوں دیہاڑی دار افراد اس گو مگو کی کیفیت سے گزر رہے ہیں کہ وہ کرونا وبا کی وجہ سے جاری لاک ڈاؤن کے معاشی اثرات کا کس طرح مقابلہ کریں اور آخر کب تک؟ اس بے یقینی کی صورتِ حال کا سامنا طبی ماہرین سے لے کر حکومتی اداروں اور پھر عام عوام سبھی کو ہے جس کا حل اب تک نہیں مل پا رہا۔