آسٹریلیا: سڈنی میں ریکارڈ کرونا کیسز، پولیس کی نگرانی بڑھانے کا عزم
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں کرونا کیسز میں اضافے پر حکام نے کرفیو جیسے سخت اقدامات کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے پولیس کی نگرانی بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ دیکھے کہ ایک وقت میں چھوٹی دکانوں میں کتنے لوگوں کو اندر آنے کی اجازت دی جارہی ہے کیوں کہ 'لوگوں کی بہت زیادہ غیر ضروری نقل و حرکت' دیکھی جا رہی ہے۔
ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے شہر سڈنی میں کرونا وائرس کے مزید 343 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جو ایک روز میں کیسز کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
سڈنی میں کرونا وائرس کی قسم ڈیلٹا تیزی سے پھیل رہی ہے جس کے باعث شہر چھ ہفتوں سے زیادہ وقت سے لاک ڈاؤن میں ہے۔
ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے حکام کی جانب سے یہ بھی اعلان کیا گیا کہ وائرس سے مزید تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان تینوں افراد کو ویکسین نہیں لگائی گئی تھی۔
ان کے بقول اس وقت اسپتالوں میں 357 کیسز ہیں جس میں سے 60 انتہائی نگہداشت میں ہیں جب کہ 28 کو وینٹی لیٹر کی ضرورت پیش آئی ہے۔
آسٹریلیا: سڈنی میں ریکارڈ کرونا کیسز، پولیس کی نگرانی بڑھانے کا فیصلہ
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں کرونا کیسز میں اضافے پر حکام نے کرفیو جیسے سخت اقدامات کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے پولیس کی نگرانی بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ دیکھے کہ ایک وقت میں چھوٹی دکانوں میں کتنے لوگوں کو اندر آنے کی اجازت دی جارہی ہے کیوں کہ 'لوگوں کی بہت زیادہ غیر ضروری نقل و حرکت' دیکھی جا رہی ہے۔
ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے شہر سڈنی میں کرونا وائرس کے مزید 343 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جو ایک روز میں کیسز کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
سڈنی میں کرونا وائرس کی قسم ڈیلٹا تیزی سے پھیل رہی ہے جس کے باعث شہر چھ ہفتوں سے زیادہ وقت سے لاک ڈاؤن میں ہے۔
ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے حکام کی جانب سے یہ بھی اعلان کیا گیا کہ وائرس سے مزید تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان تینوں افراد کو ویکسین نہیں لگائی گئی تھی۔
ان کے بقول اس وقت اسپتالوں میں 357 کیسز ہیں جس میں سے 60 انتہائی نگہداشت میں ہیں جب کہ 28 کو وینٹی لیٹر کی ضرورت پیش آئی ہے۔
کرونا وائرس: امریکہ کا فرانس سفر کرنے والے اپنے شہریوں کے لیے انتباہ
امریکی محکمۂ خارجہ نے کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر اپنے شہریوں کو فرانس کا سفر کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق فرانس میں کرونا وبا کی چوتھی لہر جاری ہے۔
امریکہ کے محکمۂ خارجہ کی جانب سے پیر کو فرانس کے لیے ’لیول 4: ڈو نوٹ ٹریول‘ ایڈوائزری جاری کی ہے۔
امریکہ کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن (سی ڈی سی) کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو فرانس کا سفر کرنا ہے تو اس سے پہلے آپ کو ویکسین کا کورس مکمل کرنا ہو گا۔
واضح رہے کہ فرانس میں کرونا سے اب تک 60 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جب کہ وائرس سے ہونے والی کُل اموات کی تعداد ایک لاکھ 11 ہزار تک جا پہنچی ہے۔
کیا کرونا وبا کی وجہ سے مصافحے کی صدیوں پرانی روایت دم توڑ جائے گی؟
یہ سوال آج کل بہت سے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے کہ کرونا وائرس کی عالمی وبا کے دور میں دوسروں سے مصافحے کے لیے ہاتھ ملائیں یا نہیں۔
کچھ لوگ ہاتھ آگے نہ بڑھانے کو معیوب سمجھتے ہیں جبکہ بعض ملاقات کے وقت اس تذبذب کا شکار نظر آتے ہیں کہ کہیں ہاتھ بڑھا کر وہ بیماری کو دعوت نہ دے رہے ہوں یا سامنے والے کو مشکل میں نہ ڈال رہے ہوں۔
امریکی شہر کنساس سٹی کی ایک میٹنگ اور ایونٹ کمپنی نے اپنے طور پر اس مسئلے کا حل تلاش کرتے ہوئے ایسے اسٹکرز فروخت کرنے شروع کیے ہیں جن پر یہ تحریر ہوتا ہے کہ 'آئی شیک ہینڈز' یعنی میں مصافحہ کرتا/کرتی ہوں۔'
ایم ٹی آئی ایونٹ ایجنسی کے ڈائریکٹر آف آپریشنز جان ڈی لیوں نے خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس اسٹکر کے ذریعے کسی منفی سوچ کو تقویت نہیں دینا چاہتے تھے۔ ان کے مطابق جو لوگ مصافحہ نہ کرنا چاہیں، ان کے اس اسٹکر کے نا لگانے سے ان کا پیغام واضح ہو جائے گا۔