رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

16:06 23.9.2021

پاکستان میں کرونا سے مزید 58 ہلاکتیں

پاکستان میں کرونا کیسز کی چوتھی لہر جاری ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وائرس سے مزید 58 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کرونا کے مزید 2367 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ مجموعی کیسز کی تعداد 12 لاکھ 32 ہزار 595 ہو گئی ہے۔

پاکستان میں کرونا سے اب تک 27 ہزار 432 اموات ہو چکی ہیں جب کہ 11 لاکھ 43 ہزار 605 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں اب بھی 4561 افراد انتہائی نگہداشت وارڈز میں زیرِ علاج ہیں۔

16:10 23.9.2021

صدرِ مملکت عارف علوی کی اہلیہ ثمینہ علوی بھی کرونا وائرس سے متاثر

صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کی اہلیہ ثمینہ علوی بھی کرونا وائرس کا شکار ہو گئی ہیں۔

اپنی ایک ٹوئٹ میں ثمینہ علوی نے بتایا کہ اُن کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ تھوڑی کمزوری محسوس کر رہی ہیں، لیکن مجموعی طور پر اُن کی صحت اچھی ہے۔

خیال رہے کہ ثمینہ علوی سے قبل صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی بھی کرونا کا شکار ہوئے تھے۔

16:22 23.9.2021

کرونا وبا ایک سال میں ختم ہو جائے گی، موڈرنا کے چیف ایگزیکٹو کا دعویٰ

کرونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے والی امریکی کمپنی موڈرنا کے چیف ایگزیکٹو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک سال کے اندر کرونا وائرس کی وبا پر قابو پا لیا جائے گا۔

سوئس اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں موڈرنا کے چیف ایگزیکٹو اسٹیفن بینسل نے کہا کہ ویکسین کی فراہمی میں تیزی سے دنیا کی بیشتر آبادی کو ویکسین لگ جائے گی، حتیٰ کے نومولود بچوں کے لیے بھی ویکسین دستیاب ہو گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر گزشتہ چھ ماہ کے دوران ویکسین کے پیداواری عمل میں تیزی کا جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ آئندہ برس کے وسط تک اتنی ویکسین دستیاب ہو گی کہ دنیا کے ہر فرد کے لیے یہ دستیاب ہو گی۔

اسٹیفن بینسل نے دعویٰ کیا کہ ایک سال تک دنیا کی سرگرمیاں معمول پر آ جائیں گی۔

17:40 23.9.2021

بزرگ اور شدید بیمار امریکیوں کے لیے فائزر ویکسین کے بوسٹر شاٹ کی منظوری

امریکہ میں خوراک و ادویات کے نگراں ادارے (فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن یا ایف ڈی اے) نے پینسٹھ سال اور اس سے زائد عمر کے امریکی شہریوں اور شدید بیماری کے خطرات سے دوچار افراد کے لیے 'فائزر بائیو ٹیک' کے تیسرے شاٹ کی منظوری دے دی ہے۔

ایف ڈی اے نے بدھ کو اپنے فیصلے میں مخصوص پیشوں سے وابستہ افراد جن میں محکمۂ صحت کے ملازمین، اساتذہ، گروسری اسٹورز کے ملازمین، بے گھر افراد کے لیے بنائے گئے شیلٹرز اور جیلوں میں رہنے والے افراد کے لیے بھی بوسٹر (قوت مدافعت بڑھانے والے) شاٹ کی منظوری دی ہے۔

ایف ڈی اے کی جانب سے یہ منظوری جمعرات کو سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری ونشن (سی ڈی سی) کے مشاورتی کمیٹی کی اس رائے شماری کے لیے راہ ہموار کر سکتی ہے جس میں یہ تعین کیا جائے گا کہ امریکی شہریوں کا کون سا گروپ فائزر بوسٹر شاٹ کا اہل ہے۔

سی ڈی سی پینل نے بدھ کے روز ایک اجلاس منعقد کیا جس کا مقصد اس بات پر تبادلۂ خیال کرنا تھا کہ بوسٹر شارٹ کے لیے کس کو ترجیح دی جائے۔

یہ ایک ایسا متنازع فیصلہ ہے جو اس کے کئی ماہ بعد لیا جا رہا ہے جب صدر جو بائیڈن نے پہلی مرتبہ اعلان کیا تھا کہ ان کی انتظامیہ کرونا کی ویکسین کی دوسری خوراک کے آٹھ ماہ بعد بوسٹر شاٹ دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG