رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

19:56 1.1.2022

کرونا وائرس کی شدت روکنے والی گولی

دوا ساز کمپنی مرک کا کہنا ہے کہ اس کی تیار کردہ گولی کرونا وائرس کی شدت روکتی ہے۔ ابتدائی کلینیکل ٹرائلز سے پتا چلتا ہے کہ یہ گولی اسپتال میں داخل ہونے یا موت کے خطرے کو نصف حد تک کم کر دیتی ہے اور اس کا استعمال بھی آسان ہے۔ مگر کیا یہ گولی عالمی وبا کا حل ہے؟ رپورٹ دیکھیے۔​

کرونا وائرس کی شدت روکنے والی گولی
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:13 0:00

19:58 1.1.2022

پاکستان میں کرونا اخراجات میں 40 ارب کی 'بے ضابطگیاں' کیسے اور کیوں ہوئیں؟

حکومتِ پاکستان نے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے مبینہ دباؤ پر کرونا وبا کے دوران اربوں روپے اخراجات سے متعلق آڈٹ رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں 40 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کی نشان دہی ہوئی ہے۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کی مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی طرف سے خرچ کیے گئے 22.8 ارب روپ میں سے 4.8 ارب روپے، وزارتِ دفاع کے 3.2 ارب روپوں میں سے ڈیڑھ ارب روپے کی بے ضابطگی ہوئی۔

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام میں 133 ارب روپے میں سے 25 ارب روپے کی رقم پر سوالات اُٹھائے گئے ہیں۔

رواں برس 23 نومبر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے تحت جو اقدامات کرنا ہوں گے ان میں جی ایس ٹی پر استثنیٰ کا خاتمہ، پیٹرولیم لیوی پر ہر ماہ چار روپے اضافہ، اسٹیٹ بینک قوانین میں ترمیم، کووڈ کے حوالے سے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ سامنے لانا شامل تھا۔

اس اعلان کے بعد جمعے کی شام وزارتِ خزانہ کی طرف سے کرونا اخراجات کی آڈٹ رپورٹ ویب سائٹ پر جاری کر دی گئی۔

دو سو دس صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ آڈیٹر جنرل کرونا اخراجات کی مد میں 354 ارب روپے سے زائد کے اخراجات کا آڈٹ کرنا چاہتے تھے۔ لیکن انہیں مکمل ریکارڈ نہیں دیا گیا۔ جو ریکارڈ آڈیٹر جنرل کو دیا گیا اس کے مطابق 40 ارب روپے کی بے ضابطیاں سامنے آئی ہیں۔

مزید جانیے

19:59 1.1.2022

کرونا بحران: امریکہ میں ملازمت پیشہ خواتین سب سے زیادہ متاثر

عالمی وبا کرونا وائرس نے جہاں دنیا بھر میں بے شمار افراد کے روزگار کو متاثر کیا ہے وہیں امریکہ میں اس بحران نے سب سے زیادہ ملازمت پیشہ خواتین کو متاثر کیا۔ ملک میں 2020 کے آغاز سے 41 فی صد خواتین کو اپنی ملازمت میں کسی نہ کسی طرح کی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ مزید تفصیل اس رپورٹ میں۔

کرونا بحران: امریکہ میں ملازمت پیشہ خواتین سب سے زیادہ متاثر
please wait

No media source currently available

0:00 0:04:06 0:00

20:01 1.1.2022

کرونا وائرس کی نئی قسم 'اومیکرون' کے بارے میں کیا جاننا ضروری ہے؟

دنیا بھر میں کرونا وائرس کے کیسز میں کمی کے بعد زندگی کچھ حد تک معمول کی طرف لوٹنا شروع ہوئی تھی کہ جنوبی افریقہ میں کرونا کی نئی قسم 'اومیکرون' کے انکشاف کے بعد ایک مرتبہ پھر مختلف ممالک وائرس سے بچاؤ کے اقدامات اٹھاتے ہوئے مختلف پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔

جاپان اور اسرائیل نے اپنے ممالک کی سرحدیں غیر ملکیوں کے لیے بند کر دی ہیں۔دیگر کئی ملکوں نے جنوبی افریقہ سے آنے والی پروازوں پر پابندی لگا دی ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق کرونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون سب سے پہلے جنوبی افریقہ میں پائی گئی جس کے بعد آسٹریلیا، بیلجئم، برطانیہ، کینیڈا، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، ہانگ کانگ، اسرائیل، اٹلی، بوٹسوانا اور نیدرلینڈ میں بھی یہ ویرینٹ پایا گیا ہے۔

جنوبی افریقہ کے سائنس دانوں نے اس قسم سے متعلق عالمی ادارۂ صحت کو آگاہ کیا تھا جس کے بعد جمعے کو عالمی ادارۂ صحت نے اسے 'تشویش ناک قسم' قرار دیا۔

کرونا کی اس نئی قسم کا نام یونانی حروف سے اخذ کیا گیا ہے جب کہ عالمی ادارۂ صحت نے اس کی شدت کے بارے میں کہا ہے کہ اسے سمجھنے کے لیے 'کچھ دنوں سے ہفتے' لگ سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل کرونا وائرس کے سامنے آنے والے ویرینٹ کو ڈبلیو ایچ او نے الفا، بیٹا اور ڈیلٹا کا نام دیا تھا جن میں سے سب سے زیادہ ڈیلٹا قسم مہلک ثابت ہوئی تھی۔

مزید جانیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG