'اومیکرون' قسم سامنے آنے کے بعد بھارت میں کرونا کی تیسری لہر کے خدشات
بھارت میں ایک طرف جہاں کرونا مثبت کیسز میں کافی کمی آئی ہے اور منگل کو صرف چھ ہزار کیسز ہی سامنے آئے وہیں دوسری طرف نئے ویریئنٹ اومیکرون کی دستک اور کرونا کی تیسری لہر کے پہلے سے موجود انتباہ نے حکومت اور عوام کو خوف میں مبتلا کر رکھا ہے۔
اس سلسلے میں مرکزی حکومت کی جانب سے ریاستی حکومتوں کو نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں اور عوام کو بھی کرونا گائیڈ لائنز کی پابندی کی ہدایت دی گئی ہے۔
مرکزی محکمہ صحت میں سیکریٹری راجیش بھوشن نے منگل کو تمام ریاستوں کے نمائندوں کے ساتھ ایک جائزہ میٹنگ کی اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ کیسز کی شناخت کے لیے ٹیسٹنگ تیز کریں۔
حکومت نے خطرات کے زمرے والے ممالک کی نشان دہی کی ہے جن میں جنوبی افریقہ، چین، بوتسوانا، برطانیہ، برازیل، اسرائیل، بنگلہ دیش، ماریشس، نیوزی لینڈ، زمبابوے، سنگاپور اور ہانگ کانگ شامل ہیں۔
کئی امریکی ریاستوں میں اومیکرون کی تصدیق
امریکہ میں چند روز پہلے تک جنوبی افریقہ میں کرونا وائرس کی نئی دریافت ہونے والی جینیاتی قسم اومیکرون موجود نہیں تھی، لیکن جمعرات کے اختتام تک کم از کم پانچ ریاستوں میں اس کی نشاندہی ہو چکی ہے۔ اس سے ایک بار پھر یہ ظاہر ہوا ہے کہ وائرس کی تبدیل شدہ ہیئت کتنی تیزی اور آسانی سے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
امریکہ میں پہلے کیس کی تصدیق کیلی فورنیا میں ہوئی۔ اس کے بعد کیے جانے والے لیبارٹری ٹیسٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ کووڈ-19 کی اس نئی قسم اومیکرون نے نیویارک کے میٹروپولیٹن علاقے میں کم ازکم پانچ افراد کو متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ ریاست منی سوٹا کا ایک شخص بھی اس کی زد میں آ چکا ہے جس نے نومبر میں نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں ایک کنونشن میں شرکت کی تھی۔
حکام نے بتایا کہ وائرس کی اس نئی قسم سے متاثر ہونے والوں میں کولوراڈو کی ایک خاتون، جس نے حال ہی میں جنوبی افریقہ کا سفر کیا تھا، ہوائی کا ایک شہری، جو حالیہ عرصے میں اپنے علاقے سے باہر کہیں بھی نہیں گیا تھا، اور کیلی فورنیا کا ایک اور رہائشی، جس نے گزشتہ ماہ جنوبی افریقہ کا سفر کیا تھا، شامل ہیں۔
ابھی تک اومیکرون کے بارے میں بہت کچھ واضح نہیں ہے۔ مثلاً یہ کہ آیا یہ بھی زیادہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے جیسا کہ صحت کے کچھ ماہرین کو خدشہ ہے۔ ابھی یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ کرونا ویکسین اس کے خلاف کتنی مؤثر ہے، اور یہ کہ یہ ویریئنٹ بھی لوگوں کو اتنا ہی شدید بیمار کر سکتا ہے جیسا کہ پہلے پہل ظاہر ہونے والے کرونا وائرس نے کیا تھا۔
پاکستان میں کرونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے پہلے کیس کی تصدیق
پاکستان میں کرونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے پہلے کیس کی سرکاری طور پر تصدیق ہو گئی ہے۔
ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں چار روز قبل سامنے آنے والے کیس کے حوالے سے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے اب تصدیق کی ہے کہ یہ اومیکرون کا ملک میں رپورٹ ہونے والا پہلا کیس ہے۔
این سی او سی کے مطابق اسلام آباد کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے تصدیق کی ہے کہ کراچی میں سامنے آنے والے مشتبہ کیس اومیکرون کا ہی ہے۔
این سی او سی کا مزید کہنا ہے کہ ملک میں امیکرون کے پہلے کیس کے بعد نگرانی کا عمل جاری ہے اور نمونے جمع کیے جا رہے ہیں تاکہ اس حوالے سے رجحانات پر نظر رکھی جا سکے۔
این سی او سی نے شہریوں کو بھی متنبہ کیا ہے کہ وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ویکسین لگوائیں تاکہ وبا کے خطرات سے محفوظ رہا جا سکے۔
جمعرات کو صوبۂ سندھ کے محکمۂ صحت نے اپنے ایک بیان میں اومیکرون کی تشخیص کے بارے میں بتایا تھا۔ بعدازاں صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے اسے مشتبہ کیس قرار دیا تھا۔
ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ابھی اس کیس کا مطالعہ کیا جا رہا ہے البتہ جس طریقے سے اس کا برتاؤ دیکھا گیا ہے اس سے لگتا ہے کہ یہ وائرس اومیکرون ہی ہے۔
کرونا ویکسین لگوانے سے انکار پر امریکی فضائیہ کے 27 اہل کار برخاست
امریکہ کی فضائیہ کے 27 اہل کاروں کو کرونا ویکسین لگوانے سے انکار پر ملازمتوں سے برخاست کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق کرونا ویکسین لگوانے کے حکم سے انکار کرنے والے یہ پہلے سروس ممبرز ہیں جنہیں ملازمتوں سے فارغ کیا گیا ہے۔
امریکی ایئر فورس نے اپنے تمام افسران اور عملے کو ہدایت کی تھی کہ وہ دو نومبر تک کرونا ویکسین لگوا لیں۔ البتہ ہزاروں اہل کاروں نے یا تو ویکسین لگوانے سے انکار کیا یا مختلف وجوہات کی بنا پر استثنٰی کی درخواست کی۔
ایئر فورس کی ترجمان این اسٹیفنک نے پیر کو ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ یہ کرونا ویکسین سے متعلق معاملات کے باعث ملازمتوں سے فارغ ہونے والے اولین اہل کار ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ملازمتوں سے برخاست ہونے والے زیادہ تر اہل کار نوجوان اور نچلے رینکس کے افسران ہیں۔
اسٹیفنک نے مزید کہا کہ ویکسین لگوانے سے انکار کرنے والے افسران اور اہل کاروں کو باعزت طریقے سے رُخصت کرنے کے لیے امریکی کانگریس کے ذریعے قانون سازی پر بھی کام ہو رہا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان) نے رواں برس کے آغاز پر تمام سروس ممبرز کے لیے ویکسین لازمی قرار دے دی تھی جس کے لیے مسلح افواج کی جانب سے مختلف ڈیڈ لائنز مقرر کی گئی تھیں۔