امریکہ میں جعلی ویکسی نیشن کارڈ کی فروخت کیسے ہو رہی ہے؟
امریکہ میں سوشل میڈیا کے لاتعداد اکاؤنٹس چند سو ڈالرز میں کرونا ویکسی نیشن کے جعلی کارڈز بنانے کی پیشکش کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی الیکٹرونک ڈیٹا بیس میں اس جعلی کارڈ کے اندراج کا وعدہ بھی کیا جا رہا ہے۔ مزید جانتے ہیں اس رپورٹ میں۔
اومیکرون تیزی سے پھیلنے، ویکسین کا مقابلہ کرنے والا کم مہلک وائرس ہے: رپورٹ
کرونا وائرس کی چوتھی لہر جسے اومیکرون کا نام دیا گیا ہے، اس سے قبل کی جینیاتی اقسام کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیلنے والی قسم ہے، تاہم تازہ ترین اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ اتنا مہلک نہیں ہے، جتنا کہ اس کے پھیلنےسے قبل خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے۔
اس ویریئنٹ کی ابتدا جنوبی افریقہ سے ہوئی ہے۔ وہاں اس سلسلے میں اکھٹے کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق یہ کرونا وائرس کی گزشتہ جینیاتی قسم ڈیلٹا کے مقابلے میں کم شدت کی بیماری کا سبب بنتا ہے۔ لیکن فائزر کی ویکسین اس کے پھیلاؤ کے خلاف نسبتاً کم مدافعت فراہم کرتی ہے، لیکن مرض کی شدت میں اضافے اور مریض کے اسپتال تک جانے کی نوبت کم آتی ہے ۔
اگرچہ منگل کو جاری کردہ نتائج ابتدائی نوعیت کے ہیں اور ان پر نظر ثانی نہیں کی گئی ہے, لیکن ان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اومیکرون زیادہ تیزی اور زیادہ آسانی سے ایک سے دوسرے فرد کو منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تحقیق کے مطابق اومیکرون سے بچاؤ کے خلاف فائزر ویکسین صرف 33 فی صد تحفظ فراہم کرتی ہے، لیکن اسپتال جانے کا خطرہ 70 فی صد تک کم کر دیتی ہے۔ یہ اعداد و شمار جنوبی افریقہ کی سب سے بڑی پرائیویٹ ہیلتھ انشورنس کمپنی 'ڈسکوری ہیلتھ' نے فراہم کیے ہیں۔
امریکہ: کرونا کے سبب نرسیں نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا
کرونا وبا کے آغاز سے سب سے زیاد دباؤ طبی عملے خصوصاً مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والی نرسوں پر رہا ہے۔ امریکہ میں طبی کام کی زیادتی کی وجہ سے نرسوں کی نفسیاتی صحت متاثر ہونے لگی ہے۔ مزید جانتے ہیں اس رپورٹ میں۔
کرونا کے لیے پہلی دوا کی منظوری، اب علاج گھر پر بھی ہو سکے گا
امریکہ نے بدھ کے روز کووڈ-19 کے علاج کے لیے فائزر کی تیار کردہ گولیاں استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ دوا 12 سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد کے علاج کے لیے گھر پر ہی استعمال کی جا سکتی ہے۔ اس دوا کو مرض کے دوران استعمال کیا جا سکتا ہے۔
فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے حکام نے اس دوا کی منظوری ایک ایسے موقع پر دی ہے جب کرونا وائرس کا نیا ویرینٹ اومیکرون ملک بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور صدر بائیڈن کی انتظامیہ اس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہے۔
فائزر کے کلینیکل تجربات کے اعداد و شمار کے مطابق یہ دوا شدید بیماری کی حالت میں مریضوں کو اسپتال میں داخلے اور اموات سے روکنے میں تقریباً 90 فی صد تک موثر ہے۔
لیبارٹری تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ دوا اومیکرون کے خلاف بھی مؤثر ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ فائزر نے 2022 کے لیے ویکسین کی اپنی پیداوار کا ہدف 8 کروڑ خوراکوں کے کورسز سے بڑھا کر 12 کروڑ کورسز کر دیا ہے۔ کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ویکسین کی فوری ترسیل کے لیے تیار ہے۔
وینڈر بلٹ یونیورسٹی کے اسکول آف میڈیسن کے وبائی امراض کے ایک ماہر ولیم شیفر نے کہا ہے کہ یہ دوا علاج کے اس خلا کو پر کر سکتی ہے جو اومیکرون کے پھیلاؤ کے باعث بڑھتا جا رہا ہے، کیونکہ اومیکرون کے خلاف اینٹی باڈی قسم کی دوائیں کم مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔