امریکہ: کرونا ویکسی نیشن کے عمل میں مسلم اداروں کا کردار کیا ہے؟
کرونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کی آمد سے قبل ہی کئی ممالک کی طرح امریکہ میں بھی بالغ افراد کے ساتھ ساتھ بچوں کی ویکسی نیشن شروع کی گئی ہے۔ اس مہم میں ریاست ورجینیا کا ایک مسلم ادارہ بھی شامل ہے، جو رنگ اور مذہب کی تخصیص کے بغیر لوگوں کو ویکسین مہیا کر رہا ہے۔ دیکھیے صبا شاہ خان کی رپورٹ۔
اومیکرون کے کیسز میں تیزی سے اضافہ، کئی ممالک میں وبا کی نئی لہر کا اندیشہ
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کرونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے خطرات بدستور بہت زیادہ ہیں۔
وبا کے حوالے سے ہفتہ وار رپورٹ میں ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں وبا کے تیزی سے پھیلنے کی بڑی وجہ اومیکرون قسم ہی ہے۔ کئی مقامات پر اومیکرون کے سامنے آنے والے کیسز کی تعداد ڈیلٹا ویریئنٹ سے تجاوز کر چکے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کا مزید کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون سے متعلق مجموعی طور پر موجود خطرات اور اندیشے بدستور بہت زیادہ ہیں۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ شواہد متواتر سامنے آ رہے ہیں کہ اومیکرون ویریئنٹ کرونا کی ڈیلٹا قسم کے مقابلے میں دو یا تین دن میں کئی گنا تیزی سے پھیلتا ہے۔ کئی ممالک میں کیسز تیزی سے پھیلے ہیں جن میں امریکہ اور برطانیہ بھی شامل ہیں جہاں اب اومیکرون کے کیسز کی تعداد سب سے زیادہ رپورٹ ہو رہی ہے۔
کرونا وائرس کی اومیکرون قسم جنوبی افریقہ میں نومبر میں سامنے آئی تھی۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق جنوبی افریقہ میں اس کے کیسز کی تعداد میں اب 29 فی صد تک کمی آ چکی ہے۔
جنوبی افریقہ میں حکومت نے کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کے قرنطینہ کے لیے تشکیل دی گئی پالیسی پر نظرِ ثانی کا عندیہ دیا ہے۔
قبل ازیں حکومت نے قرنطینہ کے حوالے سے یہ پالیسی متعارف کرائی تھی کہ وہ افراد جو کرونا سے متاثرہ شخص سے ملے ہوں تو ان کے لیے اس وقت تک ٹیسٹ یا قرنطینہ لازم نہیں ہے جب تک ان میں وبا کے اثرات ظاہر نہ ہوں۔ البتہ منگل کو حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس حوالے سے ایک ترمیم شدہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔
کرونا وبا کے سائے تلے پاکستانیوں کا سال 2021 کیسا رہا؟
سال 2021 اپنے اختتام کو ہے لیکن یہ سال بھی گزشتہ برس کی طرح کرونا کی نذر رہا۔ وائرس کی وجہ سے جہاں تعلیمی ادارے بند ہوئے وہیں کاروبار بھی متاثر ہوئے۔ ملک میں اسی سال کرونا ویکسی نیشن کا آغاز بھی ہوا جس سے طبی عملے پر بھی خاصا دباؤ رہا۔ پاکستانیوں کے لیے یہ سال کیسا رہا؟ دیکھیں ثمن خان کی رپورٹ۔
مسجد الحرام و مسجد نبوی میں ماسک اور سماجی فاصلے کی پابندی پھر نافذ
سعودی عرب میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے مسجد الحرام اور مسجد نبوی سمیت ملک بھر میں ایک بار پھر سماجی فاصلہ اور ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے 'سعودی پریس ایجنسی' کے مطابق مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے امور کو دیکھنے والے ادارے نے اعلان کیا ہے کہ 30 دسمبر کی صبح سات بجے سے سماجی فاصلہ دوبارہ لازمی ہو گا۔
اس اعلان کے ساتھ ہی مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں نمازیوں کے لیے سماجی فاصلے کے اسٹیکرز بھی دوبارہ سے لگا دیے گئے ہیں۔ ان اسٹیکرز کو اکتوبر میں کرونا پابندیوں میں نرمی کے بعد ہٹا دیا گیا تھا۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دنیا بھر میں کرونا کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور مختلف ممالک میں اومیکرون ویریئنٹ کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹ جڑواں خطرات ہیں جو کیسز کی تعداد کو ریکارڈ سطح پر لے جا رہے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او نے اپنی ایک ہفتہ وار رپورٹ میں کہا تھا کہ دنیا کے کئی ممالک میں وبا کے تیزی سے پھیلنے کی بڑی وجہ اومیکرون قسم ہی ہے۔ کئی مقامات پر اومیکرون کے سامنے آنے والے کیسز کی تعداد ڈیلٹا ویریئنٹ سے تجاوز کر چکے ہیں۔
سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق سماجی فاصلہ اختیار کرنے کا اطلاق نمازیوں، متعین کردہ نماز کے مقامات اور عمرہ ادا کرنے والوں پر ہو گا۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ نمازیوں کے درمیان سماجی فاصلہ اس لیے برقرار رکھا جائے گا تاکہ آنے والے زائرین کا تحفظ یقینی بنا جا سکے۔
اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی آنے والے تمام افراد اور ورکرز کو ماسک پہننا، جاری کیے گئے اجازت نامے کے مطابق دیے گئے اوقات پر داخلے پر عمل کرنا، سماجی فاصلے کو اپنانا اور مساجد میں کام کرنے والے حکام کی ہدایات پر عمل کرکے حفاظتی اقدامات پر عمل کرنا چاہیے۔
ادھر سعودی عرب میں حکام نے تمام انڈور اور آؤٹ ڈور سرگرمیوں اور پروگرامات میں بھی سماجی فاصلے اور ماسک پہننے کو لازمی قرار دیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق سعودی وزارتِ داخلہ کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ تمام اندرونی اور بیرونی مقامات پر 30 دسمبر کی صبح سات بجے سے اس پابندی کا اطلاق ہو گا۔