کراچی میں کرونا مثبت کیسز کی شرح 40 فی صد کے قریب
پاکستان میں کرونا مثبت کیسز کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جب کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں مثبت کیسز کی شرح 40 فی صد تک جا پہنچی ہے۔
ملک میں کرونا وائرس پر نظر رکھنے والے ادارے 'نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر' (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 51 ہزار 236 افراد کے کرونا ٹیسٹس کیے گئے جن میں سے 4027 کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔
کراچی میں 24 گھنٹوں کے دوران چھ ہزار سے زائد افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے دو ہزار سے زائد افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔
لاہور میں کرونا مثبت کیسز کی شرح آٹھ فی صد سے زائد جب کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں سات فی صد سے تجاوز کر چکی ہے۔
بھارت میں کرونا کیسز آٹھ ماہ بعد بلند ترین سطح پر
بھارت میں بھی کرونا وائرس کی نئی قسم امیکرون کے پھیلاؤ کے باعث کرونا کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
بھارت میں وزارتِ صحت کے حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کرونا کے مزید دو لاکھ 71 ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہوئے ہیں یہ آٹھ ماہ بعد مصدقہ کیسز کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
بھارت میں کرونا سے مزید 314 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں جس کے بعد اس مہلک وائرس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد چار لاکھ 86 ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔
چین: بیجنگ میں اومیکرون ویریئنٹ کے پہلے کیس کے بعد نئی پابندیاں
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہفتے کو اومیکرون ویریئنٹ کا مقامی سطح پر منتقل ہونے والا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد نئی پابندیاں عائد کر دی گئی ہے۔
بیجنگ آنے کے خواہش مند افراد کے لیے اب ضروری ہو گا کہ وہ شہر میں داخلے سے قبل 72 گھنٹوں کے اندر کرونا ٹیسٹ کرائیں۔
بیجنگ میں ہفتے کو ایک ایسے شخص میں اومیکرون ویریئنٹ کی تشخیص ہوئی۔ جس نے پچھلے 14 دنوں کے دوران متعدد مالز اور ریستورانوں کا دورہ کیا تھا۔
البتہ نیا سال شروع ہونے کے بعد مذکورہ شخص شہر سے باہر نہیں گیا تھا۔
نئی پابندی کا اطلاق رواں ماہ 22 جنوری سے مارچ کے آخر تک ہو گا جس کا مقصد اومیکرون ویریئنٹ کی بر وقت تشخیص ہے جو تیزی سے دنیا بھر میں پھیل رہا ہے۔
بھارت: کرونا وائرس کا روایتی علاج، دریائے گنگا میں اشنان اور مقدس پانی کا چھڑکاؤ
کرونا وائرس کی وبا نے جہاں دنیا بھر میں رہنے سہنے، ملنے جلنے اور معاشرتی طور طریقوں میں تبدیلیاں کی ہیں، وہیں اب مذہبی رسومات کی روایتی طریقوں سے ادائیگی کے انداز میں بھی تبدیلی کے لیے کوششیں ہو رہی ہیں۔
بھارت میں جزیرہ ساگر پر یاترا کے لیے آئے ہوئے ہزاروں ہندو یاتریوں پر ڈرونز کے ذریعے 'گنگا جل' یعنی دریائے گنگا کے پانی چھڑکاؤ کیا گیا جس کا مقصد دریائے گنگا پر اشنان کے لیے جانے والے یاتریوں کی تعداد کم کرنا تھا۔
ہندوؤں کے ایک بڑے مذہبی اجتماع کے دوران دور دراز سے آئے ہوئے لاکھوں یاتری ایک مذہبی فریضے کے طور پر دریا گنگا میں اشنان کرتے ہیں یا ڈبکی لگاتے ہیں۔
مگر اب کرونا وائرس کے تیز رفتار پھیلاؤ کے باعث لوگوں کے بڑے بڑے اجتماعات کو روکنے کے لیے متبادل طریقے ڈھونڈے جا رہے ہیں۔ جزیرہ ساگر میں ہونے والے مذہی اجتماع میں ڈورنز کے ذریعے یاتریوں پر گنگا جل کا چھڑکاؤ کیا گیا۔