نیوزی لینڈ میں پابندیاں؛ جیسنڈا آرڈن نے شادی منسوخ کر دی
نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن نے ملک میں کرونا پابندیوں کی وجہ سے اپنی شادی منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق جیسنڈا آرڈن نے اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک میں کرونا کے اومیکرون ویریئنٹ کے پھیلاؤ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنی شادی منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نیوزی لینڈ میں اتوار کی رات سے نئے قوانین کا نفاذ کیا جائے گا جس میں اجتماعات کو محدود کرنے اور ماسک کو لازم قرار دیا گیا ہے۔
ملک میں نئی پابندیوں کا نفاذ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایک شادی کی تقریب کے بعد کرونا کے اومیکرون ویریئنٹ کے نو کیسز رپورٹ ہوئے۔
پاکستان میں کرونا سے مزید چھ ہزار افراد متاثر
پاکستان میں کرونا وائرس سے مزید چھ ہزار افرادکے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں ساڑھے 49 ہزار ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 12.81 فی صد رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں مزید چھ ہزار 357 افراد متاثر ہوئے ہیں یوں متاثر افراد کی مجموعی تعداد 13 لاکھ 81 ہزار ہو گئی ہے جب کہ 12 لاکھ 69 ہزار افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق کرونا سے متاثرہ 12سو افراد انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
کرونا سے متاثر ہونے پر پھیپھڑوں کی پیوند کاری کرانے والے امریکی کی کہانی
ایسے مریض جن کے پھیپھڑوں کو کرونا وائرس سے شدید نقصان پہنچا ہو، کا صحت یاب ہونا معجزہ سمجھا جاتا ہے البتہ اب امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں کرونا سے متاثر ایسے لوگوں کے پھیپھڑوں کی پیوند کاری کی جا رہی ہے۔ ایک ایسے ہی مریض کے بارے میں جانتے ہیں 'لائف 360' میں صبا شاہ خان سے۔
'عالمی وبا کے نام پر ڈکٹیٹرشپ قبول نہیں'؛ امریکہ اور یورپ میں احتجاج
ایسے میں جب یورپ، امریکہ اور دنیا بھر کی حکومتیں عالمی وبا کرونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یورپ کے اہم شہر برسلز اور امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ویکسی نیشن کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں۔
برسلز میں پولیس نے کرونا ویکسی نیشن اور پابندیوں کے خلاف اتوار کو مظاہرہ کرنے والے لگ بھگ 50 ہزار مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے واٹر گن اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
برسلز میں ہونے والے احتجاج میں مظاہرین میں سے کچھ فرانس، جرمنی اور دیگر ممالک سے آئے تھے اور وہ یورپی یونین کے ہیڈ کوارٹرز کی حیثیت رکھنے والے شہر میں مارچ کرتے ہوئے آزادی کے نعرے لگا رہے تھے۔
ویڈیوز میں کچھ سیاہ پوش مظاہرین کو یورپی یونین کی سفارتی سروسز انجام دینے والوں کے زیر استعمال عمارت پر حملہ کرتے اور اس کے داخلی دروازے پر آتش گیر گولے پھینکتے ہوئے دکھایا گیا۔
احتجاج میں شریک بعض مظاہرین نعرے لگا رہے تھے کہ 'عالمی وبا کے نام پر ڈکٹیٹرشپ مسلط کر دی گئی ہے'۔