پاکستان میں اموات میں اضافہ
پاکستان میں کرونا وائرس سے اموات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں وبا سے مزید 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 29 ہزار 122 ہو گئی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گزشتہ ماہ اموات کی شرح یومیہ چار سے پانچ تھی جب کہ رواں میں ماہ اس میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتے سے اموات کی شرح بڑھ کر یومیہ آٹھ تک پہنچی تھی جب کہ رواں ہفتے یہ یومیہ 10 اموات سے تجاوز کر گئی ہے۔
کراچی میں کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 40 فی صد سے زائد
پاکستان کی وزارتِ صحت نے ملک کے 15 شہروں کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں جن کے مطابق سب سے زیادہ تیزی سے وبا کراچی میں پھیل رہی ہے۔
وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ کرونا کی اومیکرون قسم بہت تیزی سے پھیل رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 40.68 فی صد رہی اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں 1944 نئے کیسز سامنے آئے۔
کراچی کے بعد پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں ٹیسٹ سب سے زیادہ مثبت آ رہے ہیں۔ مظفر آباد میں ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 29.41 فی صد، اس کے بعد پشاور میں 23.89 فی صد، پھر اسلام آباد میں 22.30 فی صد، اس کے بعد حیدر آباد میں 21.53 فی صد جب کہ لاہور میں 15.83 فی صد کی شرح سے ٹیسٹ مثبت آ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کراچی کے بعد سب سے زیادہ 1836 کیسز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سامنے آئے ہیں۔ جب کہ لاہور میں 1175 افراد کے وبا سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی۔
پاکستان میں مسلسل نویں روز پانچ ہزار سے زائد کیسز رپورٹ
پاکستان میں مسلسل نویں روز پانچ ہزار سے زائد افراد کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں وبا سے مزید پانچ ہزار 196 افراد متاثر ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں کرونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔
حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں 51 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 5196 مثبت آئے ہوں کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 10.17 فی صد رہی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 1293 افراد انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
اومیکرون کا علاج، فائزر کی نئی ویکسین کی ٹیسٹنگ کا آغاز
وبا کی ویکسین بنانے والی کمپنی فائزر نے کرونا کی نئی قسم اومیکرون سے تحفظ کے لیے اپنی تیار کردہ نئی ویکسین کی ٹیسٹنگ کے لیے صحت مند بالغ رضاکاروں کا اندراج شروع کر دیا ہے۔
اومیکرون انتہائی تیز رفتاری سے ایک فرد سے دوسرے کو منتقل ہونے والا جینیاتی طور پر تبدیل شدہ وائرس ہے۔
فائزر کے تجربات میں یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ نئی ویکسین اومیکرون کے خلاف اس سے قبل کی مستعمل ویکسین کے مقابلے میں کتنی زیادہ مؤثر ہے۔
اس نئے مطالعاتی جائزے کا اعلان فائزر اور اس کی شریک کار ادویہ ساز کمپنی بائیو این ٹیک نے منگل کے روز کیا۔
کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرنے والی کمپنیاں اپنی ویکسینز پر اس حوالے سے کام کر رہی ہیں کہ وہ عالمی وبا کی دوسری اقسام کی طرح اومیکرون کے خلاف بھی کس طرح بہتر مدافعت فراہم کر سکتی ہیں۔
صحت کے عالمی اداروں کے حکام اس سے قبل یہ کہہ چکے ہیں کہ اومیکرون کے خلاف مدافعت بڑھانے کے لیے ویکسین کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔