کراچی کا سب سے بڑا ویکسی نیشن سینٹر بند کیوں ہے؟
پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز کی شرح ایک بار پھر 10 فی صد سے زیادہ ہو چکی ہے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں یہ شرح کئی روز سے 40 فی صد کے لگ بھگ ہے۔ لیکن اس کے باوجود کراچی میں سب سے بڑا ویکسی نیشن سینٹر بند پڑا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ جانیے ایکسپو سینٹر پر موجود ہمارے نمائندے محمد ثاقب کے اس فیس بک لائیو میں۔
’اومیکرون سے عالمی سطح پر وبا کے خلاف مدافعت میں اضافہ ہوا ہے‘
صحت کے ماہرین یہ توقع ظاہر کر رہے ہیں کہ کرونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کی لہر سے عالمی وبا پر کنٹرول کرنے کی ایک نئی راہ کھلے گی۔ اگرچہ آنے والے ہفتے وائرس کے پھیلاؤ کے اعتبار سے مشکل ثابت ہو سکتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے بعد نمودار ہونے والا ممکنہ ویریئنٹ زیادہ خطرناک ثابت ہو۔
ماہرین کے مطابق امریکہ میں اومیکرون اپنی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد اسی انداز میں زوال کی جانب بڑھ رہا ہے جیسا کہ برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں دیکھنے میں آیا تھا۔
اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے ماہرین یہ خیال ظاہر کر رہے ہیں کہ مارچ کے اختتام تک دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے۔
امریکہ میں ان دنوں عالمی وبا سے روزانہ لگ بھگ دو ہزار اموات ہو رہی ہیں اور ان میں اضافہ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے لیکن اسپتالوں میں لائے جانے والے مریضوں کی تعداد کم ہونا شروع ہو گئی ہے جس سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اموات میں بھی کمی ہو گی۔
اومیکرون کے تیزی سے پھیلاؤ میں طبی ماہرین کو یہ مثبت پہلو نظر آتا ہے کہ وائرس میں مبتلا ہونے والوں کے اندر اس وبا کے خلاف قدرتی مدافعت پیدا ہو رہی ہے۔
یونیورسٹی آف واشنگٹن کے صحت سے متعلق انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر کرسٹوفر موری کہتے ہیں کہ اومیکرون کی لہر کی وجہ سے عالمی سطح پر اس وبا کے خلاف قدرتی مدافعت میں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔
جنوبی کوریا میں ایک دن میں ریکارڈ کیسز
جنوبی کوریا میں یومیہ کیسز کی ریکارڈ تعداد سامنے آئی ہے۔
حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں وبا سے مزید 13 ہزار افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
دوسری جانب کرونا کی نئی قسم اومیکرون کے سامنے آنے کے بعد حکومت مزید اقدامات کرنے میں مصروف ہے۔
قبل ازیں ایک دن میں آٹھ ہزار کیسز سامنے آئے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اومیکرون کے کیسز کی تعداد 80 سے 90 فی صد ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں کرونا کے فعال کیس 90 ہزار سے متجاوز
پاکستان میں کرونا وائرس کیسز میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور جمعرات کو ملک میں کرونا کے مزید 7539 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ مثبت کیسز کی شرح 12 فی صد تک جا پہنچی ہے۔
کرونا وائرس پر نظر رکھنے والے ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کرونا کے 63272 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 7539 مثبت آئے ہیں۔
پاکستان میں کرونا وائرس کی پانچویں لہر کے بعد حکومت نے شہریوں کو بوسٹر شاٹس لگوانے کی تاکید کر رکھی ہے۔
این سی او سی کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 17 کروڑ 40 لاکھ سے زائد افراد کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگوا چکے ہیں۔
پاکستان کے مختلف بڑے شہروں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے مثبت آنے کی شرح کا جائزہ لیا جائے تو پشاور میں یہ شرح 35 فی صد سے تجاوز کر گئی ہے۔
کراچی میں کرونا کیسز کی شرح میں معمولی کمی آئی ہے اور یہ شرح 26.32 فی صد ریکارڈ ہوئی ہے۔
گلگت بلتستان میں کرونا کیسز مثبت آنے کی شرح 21.43 فی صد ریکارڈ کی گئی جب کہ لاہور میں یہ شرح 15.25 فی صد رہی۔
کرونا وائرس کی پانچویں لہر کے پھیلاؤ اور کرونا کیسز میں اضافے کے پیشِ نظر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی سرگرمیاں محدود کرتے ہوئے اوقات کار تبدیل کر دیے گئے ہیں۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے مراسلہ کے مطابق صرف ضروری عملہ بلایا جائے گا اور دفتر کے اوقات کار صبح 10 بجے سے سہ پہر 4 بجے تک کر دیے گئے ہیں۔