رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

11:10 8.2.2022

پاکستان میں کرونا کیسز میں کمی

پاکستان میں کرونا کیسز میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں لگ بھگ 2800 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 52 ہزار 327 کرونا ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے پانچ اعشاریہ تین چار فی صد کے نتائج مثبت آئے۔

ملک میں کرونا وائرس سے مزید 37 افراد انتقال بھی کرگئے ہیں۔

14:06 9.2.2022

پاکستان میں چار ماہ بعد 50 اموات

پاکستان میں کرونا وائرس سے چار ماہ بعد یومیہ اموات ایک بار پھر 50 تک پہنچ گئی ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 50 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 601 ہو گئی ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں وبا کی چوتھی لہر میں یومیہ اموات کی شرح 45 سے 55 کے درمیان تھی البتہ اب ایک بار پھر ملک بھر میں اموات کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

14:14 9.2.2022

پاکستان میں کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح آٹھ فی صد سے زائد

پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس سے مزید چار ہزار 253 افراد متاثر ہوئے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 51 ہزار 749 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 8.2 فی صد رہی۔

اعداد و شمار کے مطابق زیرِ علاج افراد میں سے ایک ہزار 731 افراد انتہائی نگہداشت میں زیرِ علاج ہیں۔

14:48 9.2.2022

افغانستان میں کرونا کیسز میں اضافہ، اسپتالوں میں سہولیات کا فقدان

افغانستان میں صرف پانچ اسپتال ایسے ہیں جو کہ کرونا وائرس کا علاج کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق حالیہ مہینوں میں 33 اسپتال ڈاکٹر، ادویات اور شدید سردی کی وجہ سے بند کیے جا چکے ہیں۔ ملک اس وقت شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے ایسے میں کرونا کیسز میں اضافہ شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔

دارالحکومت کابل کے ایک ہی اسپتال میں کرونا کے علاج کیا جا رہا ہے جہاں کے ڈاکٹر محمد گل کا کہنا تھا کہ اس اسپتال کو صرف رات میں گرم رکھا جاتا ہے کیوں کہ اسپتال کو گرم رکھنے کے لیے درکار فیول کم مقدار میں دستیاب ہے۔

اس اسپتال کو افغان جاپان کمیونیکیبل ڈیزیز اسپتال کہا جاتا ہے جہاں 100 کے قریب بیڈز ہیں۔ اس اسپتال میں کرونا وارڈ ہمیشہ ہی بھر رہتا ہے۔

ڈاکٹر محمد گل کا کہنا ہے کہ اسپتال کو آکسیجن سے لے کر ادویات سب کچھ کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جنوری سے قبل کرونا کے یومیہ ایک سے دو کیسز آ رہے تھے البتہ اب یہ تعداد 12 سے 12 تک پہنچ چکی ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG