رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس کے لئے ملیریا کی دوا کے استعمال پر صدر ٹرمپ کا اصرار جاری


امریکی ٹاسک فورس کے نامور ماہر، اینتھونی فاؤچی۔

ایسے میں جب کرونا وائرس کا کوئی باضابطہ علاج اب تک سامنے نہیں آسکا، دوسرے امراض کے لئے استعمال کی جانے والی بعض دوائیں آزمائی جارہی ہیں۔ تاہم، ابھی تک گتھی سلجھتی نظر نہیں آرہی اور اس وبا نے بدستور دہشت پھیلا رکھی ہے۔

ایک دوا جس کا ذکر کیا جاتا رہا ہے وہ ملیریا کے علاج کے لئے استعمال میں لائی جانے والی دوا ہائیڈروکسی کلوروکوئین ہے، اگرچہ اس دوا کے موثر ہونے کے بارے میں ابھی تک کوئی سائنسی ریسرچ سامنے نہیں آئی اور طبی ماہرین شک و شبہے کا اظہار کر رہے ہیں، صدر ٹرمپ کا اس کے استعمال پر اصرار بدستور قائم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ نے کرونا وائرس کے علاج کے لئے تقریباً تین کروڑ خوراک خرید لی ہے۔

اس کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ افریقہ میں دوا خانوں کی الماریاں اس دوا سے خالی ہو چکی ہیں۔ اس لئے کہ لوگ کرونا وائرس سے ممکنہ بچاو کے لئے اپنے طور پر احتیاطی تدبیر کرتے ہوئے اس کا گھروں میں ذخیرہ کر رہے ہیں۔ ادھر صدر ٹرمپ یہ دلیل دیتے ہیں کہ ہم نے اتنی وسیع پیمانے پر اس کی خریداری اسی لئے کی ہے کہ اگر یہ کارگر ہوگئی تو ہمارے پاس اس کا کافی اسٹاک موجود ہو۔ ٹرمپ بہت پہلے ہی سے اس کے بارے میں پرجوش رہے ہیں۔

ادھر ٹرمپ انتظامیہ میں کرونا وائرس کی ٹاسک فورس میں شامل سب سے بڑے ماہر اینتھونی فاؤچی نے بارہا کہا ہے کہ اس بارے میں ایسا کوئی ثبوت کہ یہ کارگر ہوتی ہے, محض مفروضے پر مبنی ہے۔

ڈیوڈ سیلون جانز ہاپکنز کے بلوم برگ اسکول آف پبلک ہیلتھ میں متعدد بیماریوں کے ایک ماہر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کلورو کوئین کو درجنوں بار بہت سی وائرل بیماریوں کے لئے آزمایا جا چکا ہے اور یہ کارگر ثابرت ہوتی دیکھائی نہیں دی۔ لہذا، یہ محض قیاس ہے کہ ہوسکتا ہے کہ دوا کام کر جائے۔ اس بات کا مطالعہ ابھی کم کیا گیا ہے اور ہمیں نتائج کا بےچینی سے انتظار ہے۔

صدر ٹرمپ نے پھر یہ کہا ہے کہ ایسے ممالک میں جہاں ملیریا کی شرح بہت زیادہ ہے وہاں کرونا وائرس کے مریضوں کی کم تعداد دیکھنے میں آئی ہے۔

امریکہ میں صحت کے سابق نائب وزیر آنند پاریکھ کا خیال ہے کہ جب تک ہمارے سامنے اعداد و شمار اور واضح ثبوت نہیں آتے۔ ہم فوری طور پر کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ افریقہ سے کرونا وائرس کے مریضوں کی زیادہ تعداد کے سامنے نہ آنے کی وجہ محض یہ ہے کہ وہاں لوگوں کی جانچ کا زیادہ بندوبست نہیں ہے۔ وائس اف امریکہ کے لئے نامہ نگار پیٹسی ویڈہ کوسوارا نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکی اسپتالوں میں کرونا وائرس کے مریضوں پر ملیر کی دوا کا تجربہ اس لئے کیا جارہا ہے کہ یہ نسبتاً محفوظ ہے اور امکان ہے کہ اس کا فائدہ نہیں تو نقصان بھی نہیں ہوگا۔

تاہم، فی الوقت جبکہ کرونا وائرس کے علاج کا سراغ نہیں مل رہا طبی ماہرین اس کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس سے بچاؤکے لئےاحتیاطی تدابیر اور از خود تنہائی پر بدستور زور دے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG