رسائی کے لنکس

کشمیر میں حد بندی لائن پر تازہ فائرنگ


کشمیر میں حد بندی لائن کے قریب بھارتی فوجی گشت کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

بھارتی عہدیداروں نے اتوار کی رات بتایا کہ کشمیر میں حد بندی لائین پر پاکستانی فوج کی تازہ فائرنگ اور شیلنگ میں ایک افسر سمیت چار بھارتی فوجی ہلاک اور ایک فوجی زخمی ہوگئے۔

عہدیداروں نے بتایا کہ فائرنگ اور شیلنگ کا یہ واقعہ نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع راجوری کے بھمبر گلی سیکٹر میں اتوار کی شام کو پیش آیا۔ انہوں نے ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت کپتان کپِل کنڈو، رائفل مین رام اوتار، رائفل مین شُبم سنگھ اور حولدار روشن لال کے طور پر کی جبکہ زخمی ہونے والے فوجی کا نام لانس نائک اقبال احمد بتایا گیا۔

جموں میں بھارتی فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ پاکستانی فائرنگ کا "سختی کے ساتھ اور موثر جواب " دیا جارہا ہے۔ جموں پہنچنے والی اطلاعات کے مطابق ، متنازعہ کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے زیرِ کنٹرول حصوں میں تقسیم کرنے والی حد بندی لائین کے بھمبر گلی، شاہ پور اور منجہ کوٹ سیکٹروں میں مقابل افواج کے درمیان شدید جھڑپیں ہورہی ہیں جن کے دوران ہلکے اور درمیانی درجے کے خود کار ہتھیاروں اور مارٹر توپوں کا استعمال کیا جارہا ہے۔

نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع راجوری کے ڈپٹی کمشنر شاہد اقبال چوہدری نے وائس آف امریکہ کو فون پر بتایا ۔" صورتِ حال انتہائی کشیدہ ہے"۔ انہوں نے چار بھارتی فوجیوں کے ہلاک اور ایک کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔

بھارتی عہدیداروں نے الزام لگایا ہے کہ پاکستانی فوج نے اس سے پہلے اتوار کی صبح ضلع پونچھ کے شاہ پور سیکٹر میں بھی بھارتی فوج کی اگلی چوکیوں کو ان کے بقول بلا اشتعال اور اندھا دھند فائرنگ اور شیلنگ کا نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں کم سے کم ایک بھارتی فوجی شدید طور پر زخمی ہوگیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستانی فوج کی طرف سے داغے گئے چند مارٹر شیل شہری علاقوں میں آگرے اور اس کے نتیجے میں دو نو عمر شہری شہناز بانو اور یاسین عارف زخمی ہوگئے۔

اُدھر پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز نے آج ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ بھارتی فوج کی کشمیر کے حویلی سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک شہری ہلاک اور دو بچے زخمی ہو گئے ہیں۔ بیان کے مطابق بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کا بھرپور جواب دیا گیا ہے۔

ماضی میں دونوں ملک ایک دوسرے پر متنازعہ کشمیر میں 745 کلو میٹر لمبی حد بندی لائین اور 198 کلو میٹر انٹرنیشنل بارڈر پرجو پاکستان میں ورکنگ باؤنڈری کہلاتی ہے نومبر 2003 سے لاگو فائر بندی کے سمجھوتے کی خلاف ورزی کرنے میں پہل کرنے کا الزام لگاتے آئے ہیں۔

پاکستان نے اس سال جنوری میں بھارتی فائرنگ کے نتیجے میں اس کےزیرِ انتظام کشمیر اور پاکستانی پنجاب کے سیالکوٹ علاقے میں ایک درجن سے زائد شہریوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی۔

دوسری جانب بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے کھٹوعہ، سامبا، جموں، راجوری اور پونچھ اضلاع میں سات شہری اور چھہ بھارتی فوجی ہلاک اور درجنوں افراد جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی، زخمی ہوئے تھے۔

دونوں جانب درجنوں رہائشی مکانوں اور دوسری املاک کو نقصان پہنچا تھا اورسینکڑوں مویشی ہلاک ہوئے تھے۔ ان واقعات کے بعد نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے سرحدی علاقوں میں تین سو سے زائد اسکولوں کو بند گیا گیا اور ہزاروں افراد متاثرہ دیہات میں اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے ہیں۔

حد بندی لائین پر تازہ فائرنگ کے واقعات بھارت کے وزیرِ داخلہ راجناتھ سنگھ کے طرف سے دیئے گئے اس بیان کے ایک دن بعد پیش آئے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے بھارتی فوج اور سرحدی محافظوں کو یہ ہدایت دے رکھی ہے کہ پاکستان کی طرف سے "فائر بندی کی کسی بھی ایک خلاف ورزی کا جواب بےشمار گولیاں چلاکر دیا جائے"۔ انہوں نے یہ بیان بھارتی ریاست اگرتلہ کے برجالا علاقے میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرنے کے دوران دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG