رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری اور ایران سے تعلقات


پاکستان کے دورے کے موقع پر سعودی ولی عہد سلمان بن محمد اور وزیر اعظم عمران خان کے درمیان مذاکرات۔ 17 فروری 2019۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے پاکستان کے دورے کے موقع پر پاکستان میں جس سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا ہے، سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس سے خطے میں معاشی استحکام لانے میں مدد ملے گی۔

دوسری جانب سعودی عرب اور ایران کے درمیان جو رقابت ہے اور اس کے خطے پر جو اثرات پڑ سکتے ہیں ان پر بھی تجزیہ کاروں کی نگاہ ہے اور ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بڑی احتیاط سے توازن قائم رکھنا ہو گا۔

سعودی کراؤن پرنس کے دورے کے موقع پر پاکستان میں سعودی اور پاکستانی وزراء خارجہ کی ایک مشترکہ نیوز کانفرنس بھی تجزیہ کاروں کی گفتگو کا موضوع بنی ہوئی ہے۔

وائس آف امریکہ اردو سروس کے پروگرام جہاں رنگ میں قمر عباس جعفری نے معروف سیاسی تجزیہ کار اور ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کے سابق ریسرچر چودھری نعمان ظفر سے ایران کی جانب سے ایک حالیہ دہشت گرد حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے دو درجن سے زیادہ اہل کاروں کی ہلاکت کے بعد تہران نے اس واقعے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا،سوال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن قائم رکھے گا۔

اس سوال پر کہ دونوں ملکوں کے وزارئے خارجہ کی نیوز کانفرنس میں سعودی وزیر خارجہ کی جانب سے پاکستان کی سرزمین پر ایران کے بارے میں تبصرے اور یہ کہنے سے کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ ایک ایسا ملک دوسروں پر دپشت گردی کا الزام عائد کر رہا ہے جو خود دوسرے ملکوں میں دہشت گردی کا سب سے بڑا اسپانسر ہے، کیا ایران اور پاکستان کے تعلقات کے لئے نقصان دہ ثابت نہیں ہو گا، تو انہوں کہا ان کے خیال میں ایسا نہیں ہو گا کیونکہ جب سے پاکستان میں نئی حکومت برسراقتدار آئی ہے۔ اس نے پہلے دن سے ہی ایران اور سعوی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات میں ایک توازن پیدا کیا ہوا ہے۔

نعمان ظفر کا کہنا تھا کہ اس وقت جس پریس کانفرنس کی بات ہو رہی ہے اس میں پاکستان کے وزیر خارجہ نے ایران میں دہشت گردی کے واقعے پر پاکستان کی تشویش کا ذکر کیا، بلکہ یہ پیشکش بھی کی کہ ایران ثبوت فراہم کرے، پاکستان اس کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرے گا۔

نعمان ظفر کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان ہرگز ایران سے تعلقات کی قیمت پر سعودی عرب سے اپنے مراسم نہیں بڑھائے گا۔

انہوں نے مستقبل کے منظر نامے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب جس طرح سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ خاص طور پر وہ گوادر میں جس بہت بڑی ریفائنری کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس سے ایرانی سرحد بھی قریب ہے، تو اس کے پیش نظر بھی وہ اس علاقے میں ہرگز بدامنی نہیں چاہے گا اور اس کی کوشش ہو گی کہ معمول کی صورت حال قائم رہے۔

مزید تفصیلات کے لیے اس آڈیو لنک پر کلک کریں۔

please wait

No media source currently available

0:00 0:03:28 0:00

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG