رسائی کے لنکس

logo-print

بغداد: دو خودکش دھماکوں میں کم از کم 31 افراد ہلاک


کرکوک (فائل)

عراق کے دارالحکومت میں پیر کے روز دو عدد خودکش دھماکے ہوئے، جن میں کم از کم 31 افراد ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔

یہ دھماکے بغداد کے وسطی علاقے میں صبح کے مصروف اوقات کے دوران طیران چوک پر ہوئے۔ یہ علاقہ مصروف کاروباری مرکز ہے، جہاں دہاڑی پر کام کرنے والے مزدور قطار لگا کر روزی کے منتظر رہتے ہیں۔

عراق کی وزارتِ صحت کے ترجمان، ڈاکٹر سیف البدر نے ’وائس آف امریکہ‘ کی کُرد سروس کو بتایا کہ 90 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے تین کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ ’’وزارتِ صحت کے ملازمین کی جانب سے ہم بے گناہ شہری آبادی کے خلاف کیے جانے والے اِن بزدلانہ اور مجرمانہ حملوں کی مذمت کرتے ہیں‘‘۔

فوری طور پر اِن دھماکوں کی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم، ماضی میں اس طرح کے بم حملے داعش کے شدت پسند کرتے آئے ہیں۔

تین برس سے زائد عرصہ قبل، اس گروپ نےشمال اور مغربی عراق کے کافی رقبے پر قبضہ جما لیا تھا۔ عراقی فوج کے جارحانہ اقدام کے نتیجے میں، جن میں اُسے ملیشیاؤں اور امریکی قیادت والے اتحاد کی فضائی کارروائیوں کی مدد حاصل تھی، رفتہ رفتہ داعش کو اہم شہروں اور دیگر علاقوں سے باہر نکال دیا گیا اور زیر قبضہ رقبہ واگزار کرا لیا گیا۔

گذشتہ ماہ، وزیر اعلیٰ حیدر العبادی نے اس شدت پسند گروپ کے خلاف فتح کا اعلان کیا۔ لیکن، عراق کے مختلف علاقوں میں باغیوں کے حملے جاری رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG