رسائی کے لنکس

سیکھنے کی معذوری کے شکار طلبہ نئی زبانیں سیکھ سکتے ہیں


تعلیمی اعداد وشمار کے قومی مرکز کا کہنا ہے کہ امریکہ میں انگریزی سیکھنے والے طلبا میں سے 13.8 فیصد لوگ سیکھنے کی معذوری کا شکار ہیں۔ان اعدادوشمار میں جسمانی اور سیکھنے کی معذوری دونوں ہی شامل ہیں۔

لورا گرے انگریزی، فرانسیسی، ہسپانوی ، اطالوی اور جرمن زبانوں میں مہارت رکھتی ہیں۔ اب وہ روسی، مینڈرین اور ڈچ زبانیں بھی سیکھ رہی ہیں۔ وہ سیکھنے کی معذوری کا شکار ہیں اور اس کے باوجود یہ زبانیں کامیابی کے ساتھ سیکھ رہی ہیں۔

سیکھنے کی معذوری ایک ایسی کیفیت ہے جس میں کچھ بھی سیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لورا گرے ڈس لیکسیا کا شکار ہیں۔ یہ ایسی کیفیت ہے جس میں پڑھنا، لکھنا اور ہجے کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ وہ بتاتی ہیں:

’’میں نے بہت شروع سے ہی پڑھنا شروع کر دیا تھا۔ لہذا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میں طویل عرصے کیلئے ڈس لیکسیا کی شکار ہو جاؤں گی۔ لوگ صرف یہ سمجھتے تھے کہ میری لکھائی اور ہجے خراب ہیں۔ وہ میری تعلیمی استعداد کو نہیں پہچانتے تھے۔‘‘

تعلیمی اعداد وشمار کے قومی مرکز کا کہنا ہے کہ امریکہ میں انگریزی سیکھنے والے طلبا میں سے 13.8 فیصد لوگ سیکھنے کی معذوری کا شکار ہیں۔ان اعدادوشمار میں جسمانی اور سیکھنے کی معذوری دونوں ہی شامل ہیں۔

سیکھنے کی معذوری کا شکار لوگ پڑھنے، لکھنے، ہجے کرنے اور عبارت کو سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔ اُنہیں حروف اور الفاظ کی آواز کو سمجھنے اور نمبر شمار کرنے میں بھی دشواری ہوتی ہے۔

سنگاپور میں ڈی لیکسیا ایسوسی ایشن کی رکن درسگاہ DAS اکادمی کی نائب سربراہ پری سیلا شین کہتی ہیں کہ ڈی لیکسیا کا شکار ہر طالب علم مختلف ہوتا ہے۔ جن طالب علموں کو ہلکے انداز کا ڈی لیکسیا لاحق ہے اُن کی کارکردگی پرائمری اسکول میں اچھی رہتی ہے۔ تاہم اُنہیں اعلیٰ درجے کی تعلیم میں مسائل درپیش ہو سکتے ہیں۔

پری سیلا شین کا خیال ہے کہ ہر طالب علم کیلئے سبق اُس کی استعداد کے مطابق تیار کئے جانے چاہئیں اور اس سلسلے میں ایسی تدریس زیادہ کارآمد رہتی ہے جس میں انسان کی ایک سے زائد حسیات کو استعمال کیا جائے ۔

میکسیکو میں انگریزی زبان کے پروگراموں سے وابستہ ماہر برینڈا برنالڈیز کہتی ہیں کہ ایک سے زیادہ حسیات کے استعمال سے دی جانے والی تدریس میں بصری، سماعتی اور عضلاتی طریقوں کا استعمال شامل ہوتا ہے۔عضلاتی حس کے طریقے میں طالب علموں کا حرکت کرنا، کھیلنا یا ایکٹ کرنا شامل ہوتا ہے۔ برینڈا کا کہنا ہے کہ اس انداز کی تدریس کے ذریعے تصاویر یا پھر متحرک ٹائلوں کے استعمال سے الفاظ یاد کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔

برینڈا کا مشورہ ہے کہ ایسی کیفیت کا شکار طالب علموں کو ٹکنالوجی سے مدد لینی چاہئیے۔ جن طالب علموں کو پڑھنے اور لکھنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے اُنہیں نوٹس لینے کیلئے وائس ریکارڈر کا استعمال کرنا چاہیے۔ اس مقصد کیلئے Evernote کی طرح کے ایپ موجود ہیں۔ ان کے علاوہ Quizlet ایپ الفاظ یاد کرنے میں مدد کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سیکھنے کی معذوری کسی مخصوص زبان سے وابستہ نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کو ایک زبان سیکھنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے، اسے کسی بھی دوسری زبان سیکھنے میں بھی ویسی ہی مشکل پیش آئے گی۔ لورا گرے کہتی ہیں کہ ہر زبان میں اُن کے ہجے خراب ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ بقول برینڈا برنالڈیز، امیر لوگوں کے سیکھنے کی معذوری کا شکار ہونے کے امکانات غریب لوگوں کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG