رسائی کے لنکس

مبینہ متنازع ویڈیو پر بنگلہ دیش کا پاکستان سے معافی کا مطالبہ


شیخ مجیب الرحمٰن (فائل فوٹو)

بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزارت کے سیکرٹری قمر الاحسن نے پاکستانی ہائی کمشنر رفیع الزمان صدیقی کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا۔

ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے تحت چلنے والی ایک ویب سائٹ پر ایک مبینہ "متنازع وڈیو" جاری کرنے پر بنگلہ دیش نے پاکستان سے شدید احتجاج کیا ہے۔

بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق اس ویڈیو میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کے بابائے قوم شیخ مجیب الرحمٰن بنگلہ دیش کی آزادی نہیں بلکہ خودمختاری چاہتے تھے جو کہ صریحاً ایک جھوٹ اور تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزارت کے سیکرٹری قمر الاحسن نے پاکستانی ہائی کمشنر رفیع الزمان صدیقی کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا۔

پاکستانی سفارت کار کو بتایا گیا کہ پاکستان یا اس کے کسی بھی حلقے کی طرف سے ایسا اقدام باہمی تعلقات کے لیے خطرناک ہو گا۔

ڈھاکہ سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت نے پاکستانی ہائی کمشنر کو مطلع کیا کہ اس طرح کی "صریح غیر سفارتی سرگرمیاں بنگلہ دیش کے عوام اور خاص طور پر 30 لاکھ کے لگ بھگ شہدا کے خاندانوں اور پانچ لاکھ خواتین کے جذبات کو مجروح کرتی ہیں۔ حکومت اس وڈیو کے جاری کرنے پر باضابطہ طور پر تحریری معافی کا مطالبہ کرتی ہے۔"

1947ء میں تقسیم ہند کے وقت بنگلہ دیش، پاکستان کا ہی حصہ تھا اور اسے مشرقی پاکستان کہا جاتا تھا۔ لیکن دسمبر 1971ء میں یہ خطہ پاکستان سے الگ ہو گیا تھا۔

بنگلہ دیش کا دعویٰ ہے کہ پاکستان سے آزادی کی جنگ کے دوران پاکستانی فوج اور اس کے حامیوں نے لاکھوں بنگالیوں کو قتل، اغوا اور خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ احتجاج کے بعد یہ وڈیو سفارت خانے کے تحت چلنے والی ویب سائٹ سے ہٹا دی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG