رسائی کے لنکس

logo-print

لندن اور یارک شائر کے اسکولوں کے طلبہ کی کارکردگی میں فرق: رپورٹ


داراحکومت لندن میں خصوصاً مختلف قومیتوں کے پس منظر سے تعلق رکھنے والے  طلبہ، یورک شائر، ہمبر اور ایسٹ مڈ لینڈز کے اسکولوں کے طلبہ کے مقابلے میں جی سی ایس سی میں زیادہ بہتر تعلیمی نتائج دے رہے ہیں۔

برطانیہ میں پرائمری اور ثانوی اسکولوں کی سالانہ کارکردگی کےحوالے سے 'سینٹر فورم' نے نئی رپورٹ جاری کی ہےجس پتا چلتا ہے کہ دارالحکومت لندن اور یورک شائر کاونٹی کے ثانوی اسکولوں کے طلبہ کی تعلیمی کارکردگی یکساں نہیں ہے۔

اس رپورٹ میں برطانیہ کے اسکولوں میں مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے بچوں کی امتحانی کارکردگی کے فرق کو ظاہر کیا گیا ہے جس کے مطابق ملک کے شمال میں واقع ثانوی اسکولوں کے طلبہ جی سی ایس ای میں کارکردگی کےحوالے سے ملک کے جنوبی حصے کے اسکولوں کے طلبہ سے پیچھے رہ گئے ہیں۔

داراحکومت لندن میں خصوصاً مختلف قومیتوں کے پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلبہ، یورک شائر، ہمبر اور ایسٹ مڈ لینڈز کے اسکولوں کے طلبہ کے مقابلے میں جی سی ایس سی میں زیادہ بہتر تعلیمی نتائج دے رہے ہیں۔

ایجوکیشن ان انگلینڈ نامی تازہ ترین رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر ملکی زبانیں بولنے والے طلبہ سفید فام برطانوی طلبہ کے مقابلے میں اسکولوں میں زیادہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

سینٹر فورم کی طرف سے کیے گئے مطالعے کے مطابق یورک شائر، ایسٹ مڈ لینڈز کے ثانوی اسکولوں کے 33 فیصد طلبہ کے مقابلے میں لندن میں 44 فیصد ثانوی اسکولوں کے طلبہ عالمی معیار کی کارکردگی تک پہنچے ہیں۔

محققین نے کہا کہ ملک کے ساحلی شہروں کے طلبہ خاص طور پر زیادہ خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ مختلف نسلی قومیتوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے مقابلے میں سفید فام برطانوی بچوں کے جی سی ایس ای کے نتائج اچھے نہیں ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں محققین نے واضح کیا کہ انگریزی کو اضافی زبان کے طور پر پڑھنے والے بچوں کے مقابلے میں سفید برطانوی بچے پانچ سال کی عمر میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔

لیکن 16 سال کی عمر تک پہنچنے پر وہ درجہ بندی کی فہرست میں 13ویں نمبر پر آجاتے ہیں اور اپنے چینی، بھارتی، پاکستانی اور سیاہ فام افریقی ساتھی طلبہ کے مقابلے میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

اس کے برعکس انگریزی کو اضافی زبان کے طور پر پڑھنے والے طالب علموں کی اسکولوں میں کارکردگی شاندار ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سفید فام برطانوی والدین کے مقابلے میں عام طور پر دیگر نسلی پس منظر سے تعلق رکھنے والے والدین اپنے بچوں کو زیادہ توجہ فراہم کرتے ہیں۔

ماہرین نے کہا کہ ایک پچھلے مطالعے سے ظاہر ہوا تھا کہ غریب علاقوں میں ورکنگ کلاس سے تعلق رکھنے والے تقریبا ایک تہائی سے بھی کم سفید برطانوی طلبہ جی سی ایس سی کے بعد اپنی تعلیم کو جاری رکھ پاتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG