رسائی کے لنکس

logo-print

ہیرے چمکانے کی بھارتی صنعت کو چین کی طرف سے مسابقت کا سامنا


بھارتی وزیر اعظم نرنیدر مودی نے بھی ہیروں کی صنعت کو فروغ دینے کے مطالبات کے جواب میں روس سے کہا ہے کہ وہ خام ہیرے براہ راست بھارت کو فروخت کرے۔

بھارت کو ایک طویل عرصے تک ہیروں کو پالش کرنے کے حوالے سے دنیا بھر میں برتری حاصل تھی تاہم اب اس کو چین کی طرف سے بڑھتی ہوئے مسابقت کا سامنا ہے جس کی بنا پر بھارت اپنے ایک قریبی اتحادی اور خام ہیرے فراہم کرنے والے ملک روس کی مدد حاصل کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔

روایتی طور پر خام ہیروں کے حصول کے لیے بھارت کا انحصار اینٹورپ، تل ابیب اور دبئی کی تجارتی منڈیوں پر رہا ہے جہاں زیادہ تر مال روس اور افریقہ سے لایا جاتا ہے۔

خام ہیروں کو کٹائی اور پالش کے لیے بھارت بھیجا جاتا ہے جہاں سے مکمل تیاری کے ساتھ انھیں دنیا کے مختلف بازاروں میں فروخت کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔

تاہم چین نے افریقی کانوں سے جہاں چینی کمپنیوں کے مفادات وابستہ ہیں، سے براہ راست خام ہیرے کی فراہمی شروع کر کے اس روایتی تجارتی روٹ کو توڑ دیا ہے۔ اس کے باعث گزشتہ پانچ سالوں میں چین کی ہیروں کی برآمدات 72 فیصد اضافے کے ساتھ 8.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

اس عرصے میں بھارت کی برآمدات 49 فیصد اضافے کے ساتھ 14 ارب ڈالر تک گئیں لیکن اس سال بھارتی برآمدات میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

بھارت کی ایک صنعتی تنظیم ایسوچم کے ایک عہدیدار سندیپ واریا نے کہا کہ "چین کی طرف سے افریقی ممالک سے خام ہیروں کی برآمدات کی وجہ سے بھارتی صنعت کاروں کے لیے اس کے حصول میں کمی آرہی ہے"۔ واریا نے مزید کہا کہ اس کی وجہ سے کئی صنعتوں کو خسارے کے پیش نظر اپنے کارکنوں کو نوکریوں سے فارغ کرنا پڑا۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دس سالوں میں پالش شدہ ہیروں کی عالمی منڈی میں چین کا حصہ تین گنا بڑھ کر 17 فیصد ہو گیا ہے جب کہ بھارت کا حصہ 19 سے 31 فیصد کے درمیان رہا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نرنیدر مودی جن کا اپنا تعلق بھی ریاست گجرات سے ہے جہاں ہیروں کو چمکانے کی زیادہ صنعتیں موجود ہے، نے بھی ہیروں کی صنعت کو فروغ دینے کے مطالبات کے جواب میں روس سے کہا ہے کہ وہ خام ہیرے براہ راست بھارت کو فروخت کرے۔

تاہم اس صنعت سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ چین سے مقابلہ کرنے کے لیے بھارت کو اپنے ٹیکس نطام اور درآمدات سے متعلق قوائد میں بہتری لانی ہو گی۔

چین کی خام ہیرے کے حصول میں برتری کے باوجود اس کی ہیروں کی کٹائی اور چمکانے کی صنعت بھارت جیسی منظم نہیں ہے اور کارکنوں کی بڑھتی ہوئی لاگت بھی ایک مسئلہ ہے۔

XS
SM
MD
LG