رسائی کے لنکس

اس سال دیوالی 19 اکتوبر کو منائی جا رہی ہے اور اس موقع پر روایتی طور پر پٹاخے چھوڑے جاتے ہیں۔

بھارت میں سپریم کورٹ نے دارالحکومت دہلی اور اس کے اطراف میں دیوالی سے قبل آتش بازی کے سامان کی فروخت پر عارضی طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ اقدام شدید نوعیت کی آلودگی پیدا ہو جانے کے خطرے کی وجہ سے اُٹھایا گیا ۔ گزشتہ سال دیوالی پر آتش بازی کے باعث پیدا ہونے والی آلودگی کے سبب دہلی اور اس کے گردونواح میں واقع اسکولوں کو بند کرنا پڑا تھا۔

جسٹس ارجن کمار سیکری کی سربراہی میں بھارتی سپریم کورٹ کے ایک بنچ نے فیصلے میں کہا ہے کہ یہ پابندی فوری طور پر نافذالعمل ہو گی اور پہلی نومبر تک جاری رہے گی۔ ججز پینل نے کہا ہے کہ اس پابندی کے باعث دیوالی کے بعد دہلی اور اطراف میں ہوا کی کوالٹی کا جائزہ لیا جائے گا۔

اس سال دیوالی 19 اکتوبر کو منائی جا رہی ہے اور اس موقع پر روایتی طور پر پٹاخے چھوڑے جاتے ہیں۔

ماحولیات کے وزیر ہرش وردھان نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کی مکمل طور پر پابندی کریں۔

تاہم وزیر اعظم نرندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ایک راہنما پریتی گاندھی نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہندو ثقافت اور روایات پر حملے کے مترادف ہے۔

گزشتہ برس دیوالی کے فوراً بعد نئی دہلی اور اس کے قرب و جوار میں شدید آلودگی پیدا ہوئی جس سے گزشتہ 20 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ اس کے نتیجے میں اسکول جانے والے لاکھوں بچے گھر پر رہنے پر مجبور ہو گئے اور ہزاروں مزدور بیمار پڑ گئے۔ اس کے علاوہ دکانوں کے باہر ماسک خریدنے والوں کی لمبی قطاریں لگ گئی تھیں۔

اُس وقت پٹاخوں کے علاوہ گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں اور تعمراتی مقامات سے اُٹھنے والی دھول بھی آلودگی کا باعث بنی تھی۔ ماحولیات سے متعلق عالمی تنظیم گرین پیس نے کہا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کی طرف سے یہ حکم محض ایک چھوٹا سا اور عارضی قدم ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ شمالی ہندوستان میں آلودگی کا تناسب قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے اور سردیوں میں اس میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ لہذا آلودگی پیدا کرنے والے تما م عوامل کے حوالے سے سخت تر اقدامات اختیار کرنے ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG