رسائی کے لنکس

logo-print

دستاویزی فلم: ہنگامی حالات میں زندگی


جنگوں اور مشکل حالات میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کی جرات اور حوصلے کو حال ہی میں ایک دستاویزی فلم "Living in Emergency: Stories of Doctors Without Borders,"میں پیش کیا گیا ہے ۔ اس فلم میں جو ایک اہم ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہے ، بین الاقوامی تنظیم Doctors Without Borders سے منسلک ڈاکٹروں کی خدمات اور مشکلات کی کچھ اہم جھلکیاں دکھائی گئی ہیں ، جو افریقہ کے پسماندہ اور جنگ زدہ علاقوں میں مریضوں کو طبی سہولتیں فراہم کر رہے ہیں۔

اس دستاویزی فلم میں اس حوالے سے معلومات فراہم کی گئی ہیں کہ کس طرح سے ڈاکٹرز کی ٹیم جنگ سے ہونے والی ہنگامی صورتحال ، قدرتی سانحات اور چھوت کی بیماریوں کے حوالے سے صورتحال کو نمٹاتی ہیں۔

ایم ایس ایف ایک ایسی تنظیم ہے جو ایسے ہی مقاصد کے حوالے سے جانی جاتی ہےاور مشکل حالات میں مریضوں کی مدد کرتی ہے۔
اس تنظیم نے فلمساز مارک ہوپکنز اور ان کے عملے کو افریقہ کے مختلف مقامات میں دی جانے والی طبی امداد کی شوٹنگ کے حوالے سے فلمسازی کرنے کی اجازت دی۔

ایم ایس ایف کے ڈاکٹرز کو ہر لمحہ غیر یقینی صورتحال کا سامنا رہتا ہے جس میں وہ زندگی اور موت کے حوالے سے فیصلے کرتے ہیں۔ اس ڈاکومینٹری میں مریضوں کے زخم ، سرجری اور بہت کچھ دکھایا گیا ہے۔ اس فلم میں ان ڈاکٹرز کی ان کوششوں کو نمایاں کیا گیا ہے جو اس قسم کی ہنگامی صورتحال میں اپنے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے مریضوں کی مسیحائی کرتے ہیں۔

ایسے ہی ایک رضاکار ڈاکٹر ٹام کرویگر ہیں۔2003 ء خانہ جنگی کے خاتمے کے بعدلائبیریا گئے تھے جہاں اس وقت خانہ جنگی ختم ہوئی تھی۔ اس جنگ میں ہزاروں لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ ڈاکٹر ٹام کرویگر کہتے ہیں کہ جب میں یہاں آیا تو مجھے یہاں کے حالات دیکھ کر بہت حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں ہر طرف مریضوں کے خراب زخموں کی بو رچی بسی تھی۔

فلم میں شامل دیگر ڈاکٹرز کی رائے بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ وہ طبی آلات کی کمی کے حوالے سے بات بھی کرتے ہیں۔ جبکہ جنگوں کے دوران مریضوں کی مدد کرنا اتنا آسان بھی نہیں۔

ڈاکٹر کرس براشر نے اس تنظیم کے لیے جمہویہ کانگو میں رضاکارانہ خدمات سرانجام دی تھیں ، جہاں ایم ایس ایف کے مطابق 1997 ءسے لے کر اب تک 40 لاکھ لوگ اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ وہ اپنا کچھ وقت لائبیریا کی خانہ جنگی میں بھی گذار چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پانی، بجلی اور کھانے کے بغیر کام کرنا آسان نہیں ۔

اسی طرح ڈاکٹر کائیرا لپورا بھی اس ڈاکومینٹری میں شامل ایک اور ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے کانگو سمیت افریقہ کے بہت سے ممالک میں کام کیا ہے جو ان کے نزدیک جنگ سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہاں کے لوگوں کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہاں کے حالات کے بارے میں مغرب میں لوگ زیادہ نہیں جانتے اور میڈیا بھی اس حوالے سے زیادہ نہیں بتاتا۔

فلم میں حقیقت کی منظر کشی کی گئی ہے۔ کیمرے کی آنکھ نے ڈاکٹرز کی محنت کو دکھایا ہے۔ ڈاکٹرز کے درمیان ہونے والے مکالمات بھی دکھائے گئے ہیں جہاں مریض کے طریقہ ِ علاج کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔ تاہم ڈاکٹر لپورا کا کہنا ہے کہ وہاں رضاکار ڈاکٹروں کی کمی ہے۔

XS
SM
MD
LG