رسائی کے لنکس

logo-print

قندوز میں اسپتال پر بمباری کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی: ایش کارٹر


حملے کے بعد ڈاکٹرز ود آوٹ بارڈرز نے قندوز سے اپنا عملہ واپس بلا لیا تھا۔ ’’تشویشناک حالت والے تمام مریضوں کو دیگر طبی مراکز میں منتقل کر دیا گیا ہے۔۔۔‘‘

امریکہ کے وزیر دفاع ایش کارٹر نے افغان اسپتال پر بمباری کو انسانی جانوں کا المناک ضیاع قرار دیا ہے اور یہ جاننے کے لیے کہ اس میں امریکی فوج کے اہلکار تو ملوث نہیں مکمل اور شفاف تحقیقات کا وعدہ کیا ہے۔

شمالی افغانستان کے شہر قندوز میں ایک اسپتال پر ہفتے کو ہونے والے فضائی حملے میں کم از کم 22 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

کارٹر نے تسلیم کیا کہ حملے کے وقت امریکی فوج قندوز کے گرد کارروائیوں میں افغان فوج کی مدد کر رہی تھی۔

کارٹر نے یورپ کا پانچ روزہ دورہ شروع کرنے سے قبل ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی زیر نگرانی چلنے والے اسپتال میں انسانی جانوں کی ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا۔

’’یہ انسانی جانوں کا المناک ضیاع ہے۔ ہمارے دل ان معصوم لوگوں کے لیے غمگین ہیں جو اس قسم کے تشدد کا نشانہ بنے۔ پھر ہم یہ عزم محسوس کرتے ہیں کہ جہاں تک امریکہ اور امریکی فوج کا تعلق ہے، ہم اس کی مکمل اور شفاف تحقیقات کریں اور اگر کوئی اس کا ذمہ دار ہے تو اس کا احتساب کریں، ایسا کام کرنے پر جو اسے نہیں کرنا چاہیئے تھا۔‘‘

اسپتال پر بمباری کو امدادی تنظیموں کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جس میں عالمی طبی تنظیم ’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ بھی شامل ہے جو قندوز میں اس اسپتال کو چلا رہی تھی۔

ڈاکٹرز ود آوٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ اسپتال پر ’’متواتر اور واضح طور پر نشانہ بنا کر بمباری کی گئی جبکہ اردگرد کی اکثر عمارتوں کو بغیر چھوئے چھوڑ دیا گیا۔‘‘ اس نے یہ بھی کہا کہ اس نے گزشتہ ہفتے ’’اتحادی اور افغان افواج اور سویلین حکام کو‘‘ اسپتال کے عین مقام کی جی پی ایس معلومات بھی فراہم کی تھیں تاکہ اسے بمباری سے بچایا جا سکے۔

اس سے قبل اتوار کو افغان حکام نے کہا تھا کہ 10 سے 15 شدت پسند اسپتال اور اس کے ملحقہ گراؤنڈ میں چھپے ہوئے تھے۔ قندوز کے قائم مقام گورنر حمداللہ دانشی نے روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ کو بتایا کہ ’’ہم نے جوابی کارروائی سے پہلے کافی دیر ان کی طرف سے فائرنگ کو برداشت کیا۔‘‘

مگر ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے ایک بیان میں کہا کہ ’’اسپتال کے عملے کے ایک بھی رکن‘‘ نے امریکی فضائی کارروائی سے قبل اسپتال کے اندر لڑائی کی اطلاع نہیں دی اور کہا کہ’’مکمل طور پر فعال اسپتال پر بمباری کا کسی صورت میں کوئی جواز نہیں پیش کیا جا سکتا۔‘‘

کارٹر نے اتوار اسپین جاتے ہوئے نامہ نگاروں سے کہا کہ قندوز میں صورتحال ’’غیر واضح اور پیچیدہ‘‘ ہے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ’’ہم حقائق معلوم کر کے رہیں گے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ امریکی فورسز سے کہا گیا ہے کہ وہ علاقے میں ضروری طبی امداد فراہم کریں۔

کارٹر نے یہ بیان اس وقت دیا جب ’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ نے بمباری کی آزاد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جس میں اس کے مطابق عملے کے 12 اہلکار اور 10 مریض ہلاک ہو گئے ہیں۔

حملے کے بعد ڈاکٹرز ود آوٹ بارڈرز نے قندوز سے اپنا عملہ واپس بلا لیا تھا۔ اتوار کو تنظیم نے ایک بیان میں کہا کہ "تشویشناک حالت والے تمام مریضوں کو دیگر طبی مراکز میں منتقل کر دیا گیا ہے اور ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کا کوئی بھی رکن یہاں کام نہیں کر رہا۔‘‘

تنظیم نے فضائی کارروائی کے بارے میں بتایا کہ اس دوران ’’توارتر سے بمباری‘‘ ہوئی جو ’’کابل اور واشنگٹن میں افغان اور امریکی فورسز کو بمباری کی پہلی اطلاع کیے جانے کے 30 منٹ بعد تک جاری رہی۔‘‘

امریکی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے اسپتال کے قریب طلوع آفتاب سے پہلے بمباری کی۔ افغانستان میں امریکی فورسز کے ترجمان نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ اس فضائی کارروائی سے علاقے میں موجود اسپتال کو بھی نقصان پہنچا ہو۔

XS
SM
MD
LG