رسائی کے لنکس

افغان فوجی اڈے پر طالبان کا حملہ، 43 اہلکار ہلاک


فائل

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران افغانستان میں سکیورٹی فورسز کی تنصیبات پر یہ تیسرا حملہ ہے۔

افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار میں افغان فوج کے ایک اڈے پر طالبان جنگجووں کے حملے میں کم از کم 43 افغان فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

افغان وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق حملہ ضلع میوند کے علاقے چشمو میں واقع ایک فوجی اڈے پر کیا گیا۔

بیان کے مطابق حملے کے وقت اڈے پر افغان فوج کے 60 اہلکار موجود تھے جن میں سے 43 مارے گئے ہیں جب کہ نو زخمی ہوئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعرات کو علی الصباح کیے جانے والے اس حملے کے بعد سے اڈے پر تعینات چھ افغان فوجی اہلکار لاپتا ہیں۔

وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں 10 طالبان جنگجو بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

افغان وزارتِ دفاع کے ایک ترجمان دولت وزیری نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا ہے کہ حملے کے دوران جنگجووں نے بارود سے بھری ایک ہموی گاڑی فوجی اڈے کے مرکزی دروازے سے ٹکرائی جس کے بعد وہ احاطے میں داخل ہوگئے۔

ترجمان نے بتایا ہے کہ حملہ آوروں نے فوجی مرکز میں موجود تمام چیزوں کو نذرِ آتش کردیا ہے اور اب وہاں کچھ بھی نہیں بچا۔

دولت وزیری نے بتایا کہ صورتِ حال کے جائزے کے لیے ایک فوجی ٹیم علاقے میں بھیج دی گئی ہے۔

طالبان نے صحافیوں کو بھیجے جانے والے ایک بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں اڈے پر موجود تمام 60 اہلکار مارے گئے ہیں۔

طالبان کے مقامی ترجمان قاری یوسف احمدی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے کا آغاز ایک خود کش کار حملے سے کیا گیا جس کے بعد جنگجو فوجی مرکز میں داخل ہوگئے۔

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران افغانستان میں سکیورٹی فورسز کی تنصیبات پر یہ تیسرا حملہ ہے۔ ان حملوں میں 120 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہوچکے ہیں جن میں فوجی اور پولیس اہلکاروں کے علاوہ عام شہری بھی شامل ہیں۔

اس سے قبل منگل کو طالبان نے پکتیا صوبے کے شہر گردیز میں پولیس کی ایک عمارت پر حملہ کیا تھا جس میں پولیس کے صوبائی سربراہ سمیت 60 افراد مارے گئے تھے۔

منگل کو ہی ایک دوسرے حملے میں صوبہ غزنی میں طالبان کے ایک حملے میں 15 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 20 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ان تینوں حملوں میں طالبان نے تنصیبات کے اندر داخل ہونے کے لیے پہلے بارود سے بھری ہموی گاڑی اپنے اہداف سے ٹکرائی۔

پاکستان کی مذمت

پاکستان نے قندھار میں افغان فوج کے اڈے پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ سے جاری بیان میں قندھار کے ضلع میوند میں دہشت گردوں کی اس کارروائی کو بزدلانہ حملہ قرار دیتے ہوئے اس میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

بیان میں ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے تعزیت جب کہ زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔

دفترِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ بیان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کے عزم کو بھی دہرایا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG