رسائی کے لنکس

logo-print

ایبولا کا مریض این آئی ایچ اسپتال داخل، ’حالت تشویش ناک‘


حکام کا کہنا ہے کہ یہ مریض جو سیئرا لیون میں ایبولا متاثرین کی رضاکارانہ طور پر طبی امداد کا کام کر رہے تھے، اُنھیں جمعے کی صبح ’این آئی ایچ‘ کی تنصیب میں لایا گیا، جس سے قبل اُنھیں خصوصی طور پر ایک چارٹرڈ طیارے میں واپس لایا گیا

صحت سے متعلق ایک امریکی کارکن، جو سیئرا لیون میں علاج کے فرائض انجام دیتے ہوئے ایبولا سے متاثر ہوگئے تھے، اُنھیں طبی امداد کے لیے میری لینڈ میں واقع ’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ)‘ اسپتال داخل کرا دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر اُن کی حالت کو ’تشویش ناک‘ قرار دے رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ مریض جو سیئرا لیون میں ایبولا متاثرین کی رضاکارانہ طور پر طبی امداد کا کام کر رہے تھے، اُنھیں جمعے کی صبح ’این آئی ایچ‘ کی تنصیب میں لایا گیا، جس سے قبل اُنھیں خصوصی طور پر ایک چارٹرڈ طیارے میں واپس لایا گیا۔

یہ شخص محفوظ ماحول والے اس طبی مرکز میں قیام کریں گے، جو امریکہ میں اس انتہائی خطرناک وائرس کے علاج کا مرکز ہے۔

این آئی ایچ اہل کاروں نے اس مریض کی شناخت کے بارے میں کچھ نہیں کہا، جو امریکہ میں ایبولا سے متاثرہ گیارہواں شخص ہے۔

اس سے قبل، سیئر لیون میں کام کرنے والی برطانوی فوج کی طبی شاخ سے وابستہ ایک خاتون ایبولا زدہ ہوگئی تھیں، جنھیں برطانیہ بھیجا گیا تھا۔ اُن کے ہمراہ دیگر دو کارکن بھی تھے، جو اُن کے قریبی رابطے میں رہ چکے تھے۔

علاوہ ازیں، نام ظاہر نہ کی گئی اِن فوجی خاتون کے علاوہ صحت سے متعلق اِن دو اضافی کارکنان کا سیئرا لیون میں طبی معائنہ کیا جارہا ہے، جن کا جمعے ہی کے روز انخلا کی توقع ہے۔

جمعرات کو صحت کے عالمی ادارے نے بتایا کہ وائرس کے باعث 10000سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر افراد کا تعلق گِنی، لائبیریا اور سیئرا لیون کےمغربی افریقی ملکوں سے ہے۔

دسمبر 2013ء جب سے ایبولا نے اِن مغربی افریقی ملکوں کو متاثر کیا ہے، کم از کم 24340 افراد ایبولا سے متاثر ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG