رسائی کے لنکس

logo-print

ایک جیسے مضامین پڑھنے والوں میں آپس میں شادیاں کرنے کا رجحان


رپورٹ کےنتائج سے ظاہر ہواکہ مجموعی طور پر 50 عام مضامین میں سے مذہبی تعلیم اور ٹیکنالوجی کے مضامین میں ڈگری رکھنے والے لوگوں میں اپنے ہی شعبے میں شادی کرنے کا امکان زیادہ تھا ۔

رومانوی تعلقات کےحوالے سے ایک قدیم قول عام ہے کہ مخالف خصوصیات میں کشش ہوتی ہے اور یہ بات شاید کچھ طریقوں میں درست ثابت ہوتی ہے لیکن جہاں تک کالج کی سطح پر خصوصی مضمون میں تعلیم حاصل کرنے کا تعلق ہے، تو نئی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ زیادہ تر نوجوان اپنے مطالعے کے اصل میدان کے اندر اندر اپنا شریک حیات تلاش کر لیتے ہیں۔

امریکی مردم شماری کے اعداد و شمار کے تجزیہ کے مطابق، جب امریکیوں سے ان کی ازدواجی حیثیت، کالج کی ڈگری اور مطالعہ کیے جانے والےخصوصی مضمون کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔

رپورٹ کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ مجموعی طور پر 50 عام مضامین میں سے مذہبی تعلیم اور ٹیکنالوجی کے مضامین میں ڈگری رکھنے والے لوگوں میں اپنے ہی شعبے میں شادی کرنے کا امکان زیادہ تھا۔

امریکی کمیونٹی سروے 2012 کے مطابق، 22 سال سے زائد عمر کے 28 فیصد امریکی شادی شدہ جوڑوں نے کالج سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی تھی، جبکہ تجزیہ سے پتا چلا کہ امریکیوں میں اپنے ہی مضمون کے اندر اندر شادی کرنے کا رجحان غیر معمولی طور پر زیادہ پایا جاتا ہے۔

'پرائس اکنامک' کے تجزیہ کاروں کی طرف سے کی جانے والی تحقیق میں کالج یا یونیورسٹی کے 50 مضامین کو دیکھا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 10 فیصد امریکی شادی شدہ جوڑے ایک ہی جیسے مضامین میں ڈگری رکھتے تھے ۔

رپورٹ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جن طالب علموں نے کالج میں دینیات پر توجہ مرکوز کی تھی، وہ اپنے ہی مضمون میں رومانوی میلاپ کے قائل تھے اور اس مضمون میں آپس میں شادی کرنے والے طالب علموں کی تعداد 21 فیصد تھی ۔

دیگر مضامین کے حوالے سے جو اپنے ہی مطالعےکے میدان میں شریک حیات تلاش کر لیتے ہیں، ان میں موسیقی اور فارمیسی کے 17 فیصد طالب علم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد اپنی ہی جیسی ڈگری رکھنے والے سے شادی کر لیتے ہیں ۔

اسی طرح کمپیوٹر سائنس اور جرنل ایجوکیشن اور بزنس پڑھنے والوں میں یہ رجحان 15 فیصد نظر آیا ہے اور اکاونٹنگ کے 14 فیصد طالب علموں میں یہ رجحان عام تھا۔

جبکہ فائن آرٹ اور الیکٹریکل انجنیئرنگ کے مضامین پڑھنے والوں میں آپس میں شادی کے امکانات لگ بھگ 10 فیصد تھا۔

علاوہ ازیں سوشل سائنس ،جرنلزم ،معاشیات ،مواصلات اور سول انجنیئرنگ کا مطالعہ کرنے والے طالب علموں میں اپنی ہی ڈگری میں شریک حیات تلاش کرنے کا امکان 8 فیصد رہا ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب نتائج کا جنس کی بنیاد پر تجزیہ کیا گیا ،تو پتا چلا کہ انتہائی صنفی اقلیت رکھنے والے مضامین میں نوجوانوں میں اپنے ہی مضمون کے اندر اندر شادی کرنے کا رجحان زیادہ عام تھا۔

مثلاً نرسنگ جس میں عورتیں زیادہ ہیں اور انجینیئرنگ جہاں بڑی تعداد مرد طالب علموں کی ہے دو ایسے شعبے تھے جن کا اپنے ہی شعبے میں شادی کرنے کا امکان سب سے زیادہ تھا ۔

مثال کے طور پر خواتین کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ خواتین انجینئرز کا اپنے ہی شعبے کے اندر اندر شریک حیات منتخب کرنے کا امکان 39 فیصد ہے ۔

اسی طرح دینیات پڑھنے والی خواتین میں یہ رجحان 37 فیصد پایا گیا ۔

علاوہ ازیں ،انجنیئرنگ کی دیگر شاخوں میں تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں میں یہ اعداد و شمار بلند نظر آئے مثلا ،الیکٹریکل انجینئرنگ میں 38 فیصد ،مکینیکل انجینئرنگ میں 29 فیصد،سول انجنیئرنگ میں 26 فیصداور کمپیوٹر سائنس سمیت طبیعات میں 25 فیصد تھا۔

اسی طرح عورتوں کے غلبے والے مضامین میں تعلیم حاصل کرنے والوں مردوں میں اپنے ہی شعبے میں شریک حیات تلاش کرنے کا امکان ظاہر ہوا ہے خاص طور پر مرد نرس کا نرسنگ میں شریک حیات تلاش کرنے کا امکان 43 فیصد تھا ۔

دریں اثناء مردوں میں پرائمری اسکول کے استاد کی تعلیم کے ساتھ یہ رجحان 38 فیصد دکھائی دیا ۔

اس کے علاوہ دیگر مردوں کی اقلیت رکھنے والے مضامین میں شریک حیات تلاش کرنے کے امکانات خاصے بلند رہے مثلا تھراپی پروفیشن اور فارمیسی میں 19 فیصد،موسیقی میں 20 فیصد اور فائن آرٹ میں 15 فیصد نظر آیا ہے ۔

XS
SM
MD
LG