رسائی کے لنکس

logo-print

مسئلہ کشمیر کے حل کی کوششیں تاریخ کے آئینے میں


فائل فوٹو

بھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے تنازعہ کشمیر کے لیے بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

بھارتی لوک سبھا میں تقریر کے دوران انہوں نے کہا کہ نہرو نے کشمیر کے بارے میں اس وقت کے وزیر داخلہ سردار پٹیل کے مشورے کو تسلیم نہیں کیا تھا اور نہرو کی پالیسیوں کی وجہ سے ایک تہائی کشمیر بھارت کے ہاتھ سے چلا گیا۔

نہرو نے اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم لیاقت علی خان کے نام متعدد خطوط کے علاوہ اپنی تقاریر میں بار بار اس عہد کا اعادہ کیا تھا کہ کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق مختصر مدت کے لیے ہے اور کشمیری عوام خود اپنا حق خود ارادیت استعمال کرتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ۔

نہرو نے کہا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام کشمیر میں استصواب رائے کرانے کے عہد پر کاربند رہیں گے اور اس علاقے میں امن و امان بحال ہوتے ہی اس پر عمل درآمد کر لیا جائے گا۔

نہرو کے بعد 1965 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑی گئی 17 روزہ لڑائی کے بعد اس وقت کے سوویت وزیر اعظم الیکسی کوسیگن کی میزبانی میں تاشقند میں ہونے والے سمجھوتے میں بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری اور پاکستان کے صدر ایوب خان نے طے کیا کہ کشمیر سمیت دونوں ملکوں کے درمیان تمام مسائل بات چیت کے ذریعے پر امن طور پر طے کیے جائیں گے اور دونوں ملک اچھی ہمسائیگی کے اصولوں پر کاربند رہیں گے۔

اس کے بعد 1971 میں ہونے والی پاکستان۔بھارت جنگ کے نتیجے میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ جنگ کے بعد صدر ذوالفقار علی بھٹو اور بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے درمیان بھارت کے مشہور صحت افزا مقام شملہ میں ایک سمجھوتہ طے ہوا جسے شملہ سمجھوتے کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اس سمجھوتے میں دونوں ملکوں نے اتفاق کیا کہ کشمیر سمیت تمام مسئلے دو طرفہ بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔

اس کے بعد بھارت میں آنے والی حکومتوں نے یہ مؤقف اختیار کر لیا کہ شملہ سمجھوتے کے تحت مسئلہ کشمیر صرف دو طرفہ بنیادوں پر ہی حل کیا جا سکتا ہے اور اس میں کسی تیسرے فریق کی ثالثی قبول نہیں کی جائے گی۔

تاہم، پاکستان کا یہ اصرار رہا کہ چونکہ بھارت کشمیر کے مسئلے پر پاکستان سے براہ راست مذاکرات پر آمادہ نہیں ہے، اس لیے اس مسئلے کے حل کے لیے مشترکہ دوست ممالک کی مدد کی ضرورت ہے جسے بھارت نے مسلسل یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ ایسا اقدام شملہ معاہدے کی خلاف ورزی کے مترادف ہو گا۔

دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کی تازہ ترین پیشکش امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے دوران کی تھی جسے ایک بار پھر بھارت نے مسترد کر تے ہوئے یہی مؤقف اختیار کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات صرف دو طرفہ بنیادوں پر ہی حل کیے جا سکتے ہیں اور کسی تیسرے ملک کو اس میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

شملہ سمجھوتے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور بھارت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے دور میں ایک مرتبہ پھر مسئلہ کشمیر حل کرنے کے سلسلے میں کوششیں ہوئیں۔ اپنے پہلے دور اقتدار میں وہ بس پر بیٹھ کر لاہور پہنچے اور انہوں نے اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے ہمراہ خیر سگالی کے جذبے کے تحت قیام پاکستان کی خاص علامت مینار پاکستان کا دورہ کیا۔ مینار پاکستان کا دورہ کرنے والے وہ بھارت کے پہلے وزیر اعظم تھے۔

اس دورے میں واجپائی نے کشمیر سمیت تمام مسائل پر امن طور پر حل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ واجپائی کے اس دورے کو مسئلہ کشمیر اور پاکستان۔بھارت تعلقات کے حوالے سے ایک یادگار دورہ قرار دیا جاتا ہے۔

تاہم اس دورے کے کچھ ہی عرصے کے بعد دونوں ملکوں میں کارگل کی لڑائی ہوئی جس کے نتیجے میں مسئلہ کشمیر کے حل کی کوششیں ایک بار پھر کھٹائی میں پڑ گئیں۔ پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کے برسراقتدار آنے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہو گئے۔ تاہم، واجپائی نے اپنی دوسری مدت کے دوران صدر مشرف کو آگرہ آنے کی دعوت دی جہاں دونوں رہنماؤں میں کشمیر کے مسئلے کے حل کے سلسلے میں جامع مذاکرات ہوئے۔

اس وقت کے پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے اپنی کتاب ‘Neither a hawk nor a dove’ میں لکھا ہے کہ آگرہ سمجھوتے میں دونوں ملک مسئلہ کشمیر کے حل کے جس قدر قریب پہنچ گئے تھے، اس سے قبل کبھی نہیں پہنچے تھے۔ اس بات کی تصدیق امریکہ کے سابق نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر نے بھی اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کی ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ واجپائی اور مشرف نے مسئلہ کشمیر کے حل کے خد و خال طے کر لیے تھے اور دونوں ملکوں کے درمیان یہ دیرینہ مسئلہ حتمی حل کے انتہائی قریب پہنچ گیا تھا۔ تاہم پاکستان میں حکومت پر مشرف کی گرفت کمزور پڑنے اور بھارت میں واجپائی کی اپنی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی میں انتہا پسند مؤقف رکھنے والوں کی مزاہمت کے باعث ایسا نہ ہو سکا۔

اب بھارت میں بی جے پی کی حکومت واجپائی کے مقابلے میں کشمیر اور پاکستان کے حوالے سے کہیں زیادہ سخت مؤقف رکھتی ہے اور اس حکومت کے دور میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب کشمیر کے مسئلے کے حل کا امکان زیادہ پیچیدگی اختیار کر گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG