رسائی کے لنکس

logo-print

مصر: پُرتشدد کارروائیاں جاری، صدارتی انتخابات کا اعلان


اس سے قبل توقع کی جار رہی تھی کہ مصر کے عبوری صدر عدلی منصور اگلے برس صدارتی انتخابات کا اعلان کریں گے۔

مصر کی عبوری حکومت نے ملک میں جاری سیاسی انتشار کو روکنے کے لیے صدارتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ مصر کی عبوری حکومت کی جانب سے اس اقدام کو گذشتہ برس محمد مرسی کو اقتدار سے معزول کرنے کے بعد صدارتی انتخابات کو ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب مصر میں پولیس اور احتجاجی ریلیوں کے شرکاء کے درمیان تصادم میں 49 ہلاک ہو گئے جبکہ سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ جبکہ ان مظاہروں میں پولیس نے 1,000 سے زیادہ افراد کو زیر ِ حراست لے لیا ہے۔

اس سے قبل توقع کی جار رہی تھی کہ مصر کے عبوری صدر عدلی منصور اگلے برس صدارتی انتخابات کا اعلان کریں گے۔

قاہرہ کے تحریر چوک میں اخوان المسلمون اور معزول صدر مرسی کے حامیوں کی بحالی کے لیے احتجاج کرنے والوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں نے پر تشدد رنگ اختیار کر لیا تھا۔ یہ مظاہرے رواں برس کے سب سے شدید مظاہرے ثابت ہوئے ہیں۔

مصری حکومت نے حال ہی میں اخوان المسلمون کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔ مصر کے عبوری صدر منصور نے انتباہ کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے دہشت گردانہ کارروائیوں کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

مصری صدر کے مطابق مصر نے 90ء کی دہائی میں بھی دہشت گردی کا سامنا کیا تھا اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ بھی کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو اگر اس ضمن میں غیر معمولی اقدامات بھی اٹھانا پڑے تو وہ اس سے دریغ نہیں کرے گی۔

دوسری طرف مصر میں اخوان المسلمون کے حامیوں نے اتوار کے روز بھی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا۔
XS
SM
MD
LG