رسائی کے لنکس

آئنسٹائن اورنظریہٴ اضافیت


آئنسٹائن اورنظریہٴ اضافیت
آئنسٹائن اورنظریہٴ اضافیت

آئنسٹائن نے اپنے نظریہٴ اضافیت میں یہ بتایا کہ مادہ فنا ہوسکتا ہے۔اگر مادہ روشنی کی رفتار سے سفر کرے تو وہ قوت میں تبدیل ہوجائے گا۔ حالانکہ یہ تجربہ عشروں پر محیط ہے۔ تاہم، حاصل شدہ نتائج سے کششِ ثقل کے بارے میں آئنسٹائن کے مایہ ناز کام کی تصدیق ہوتی ہے

امریکی خلائی ادارے ناسا نے معروف سائنس داں البرٹ آئنسٹائن کے سنہ 1916ءمیں پیش کیے گئے نظریہٴ اضافیت کی جانچ کے لیے سنہ 2004میں ایک خلائی جہاز کو زمین کے مدار میں بھیجا۔اِس جہاز کا نام ’گریوٹی پروب بی‘ تھا، اور اب ناسا نے اِس خلائی جہاز کے ذریعے کیے گئے تجربات پر مبنی ڈیٹا کے حوالے سے معلومات جاری کی ہیں۔

بیسویں صدی کے آغاز تک تمام بڑے بڑے سائنس داں، مفکر اور فلسفی یہی کہتے رہے کہ مادہ ایک ایسی شئے ہے جسے نہ تو پیدا کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی تباہ کیا جاسکتا ہے۔مادہ بے شک اپنی شکل تبدیل کر لیتا ہے۔

لیکن، سنہ 1905 میں آئنسٹائن نے اپنے شہرہٴ آفاق نظریہ ٴ اضافیت پیش کیا تو صدیوں پرانے سائنسی اصول ریت کی دیوار کی طرح ڈہ گئے۔

آئنسٹائن چونکہ اعلیٰ پائے کا ریاضی داں تھا، اِس لیے اُس نے مادے اور توانائی کے تعلق کو ایک کلیے ’اِس اِز اکوئل ٹو ایم سی اسکوائر‘ سے ظاہر کیا۔

آئنسٹائن نے اپنے نظریہٴ اضافیت میں یہ بتایا کہ مادہ فنا ہوسکتا ہے۔اگر مادہ روشنی کی رفتار سے سفر کرے تو وہ قوت میں تبدیل ہوجائے گا۔ حالانکہ یہ تجربہ عشروں پر محیط ہے۔ تاہم، حاصل شدہ نتائج سے کششِ ثقل کے بارے میں آئنسٹائن کے مایہ ناز کام کی تصدیق ہوتی ہے۔

اسٹنفورڈ یونیورسٹی کے ایک سائنس داں فرینسس ایروڈ نے سنہ 1956 میں آئنسٹائن کے نظرئے کو خلا میں گائرواسکوپ کے گردش کے ذریعے جانچنے کی تجویز پیش کی تھی۔گائرواسکوپ یعنی گردش نما رُخ بندی، ناپنے یا قائم رکھنے کے لیے استعمال ہونے والا ایک آلہ ہے۔

باالآخر کئی سال بعد اُنھیں یہ موقعہ میسر آیا کہ وہ ناسا کی اُس ٹیم کی قیادت کرسکیں جو اِس نظریے کے بارے میں تجربہ کرنے والی تھی۔ چناچہ، فرانسس ایورڈ کہتے ہیں کہ ہم نے آئنسٹائن کی کائنات کو اس عہد آفریں رجربے کے ذریعے پرکھا اور آئنسٹائن درست ثابت ہوئے۔

’گریوٹی پروب بی‘ 17مہنیوں تک زمین کے مدار میں گردش کرتا رہا۔ سالہا سال کے بعد خلائی جہاز ’گریوٹی پروب بی‘ سے حاصل شدہ معلومات سے کئی طرح کی نئی تیکنالوجی بھی وجود میں آئیں۔ اُن میں قابلِ ذکر ’گلوبل پوزیشننگ سسٹم‘ یعنی جی پی ایس شامل ہے۔ اِس جدید سائنسی آلے کی مدد سے زمین کے مدار میں گردش کرتے ہوئے مشینی سیاروں کی مدد سے زمین اور سمندر میں مقام اور سمت کا تعین بالکل درست سامنے آتا ہے۔

امریکہ میں تقریباً ہر گاڑی میں جی پی ایس موجود ہوتا ہے اور ڈرائیور اپنی منزل اِس میں فیڈ کرتا ہے اور یہ آلہ منزل تک پہنچنے کا راستا اُسے بتاتا ہے۔

ناسا کے سابق مییجر، ریکس گریڈون کا کہنا ہے کہ ’گریوٹی پروب بی‘ مشن انسان کے تخیل، عقل اور شعور کی عمدہ مثا ل ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG