رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان: انتخابی مہم ختم، ووٹنگ کا انتظار شروع


تاریخ پر نظر دورائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آج ختم ہونے والی مہم ملکی تاریخ میں سن 1970ء کے بعد سب سے زیادہ پرتشدد مہم تھی۔

پاکستان میں عام انتخابات کے لئے جاری انتخابی مہم 20روز تک جاری رہنے کے بعد جمعرات اور جمعہ کی درمیان شب رات بارہ بجے ختم ہو گئی۔ اب کوئی بھی امیدوار یا سیاسی پارٹی جلسے جلوس نہیں نکال سکے گی نا ہی کارنر میٹنگ بلائی جاسکتی ہے۔ قواعد وضوابط کے مطابق پولنگ سے 48 گھنٹے قبل انتخابی مہم ختم کرنا لازمی ہے۔

ووٹنگ ہفتہ 11 مئی کو ہوگی تب تک ووٹرز کو اچھی طرح یہ سوچنے کا موقع مل جائے گا کہ وہ اپنا حق ِرائے دہی کس طرح استعمال کرے۔ اس درمیانی مدت کا اصل مقصد یہی ہے۔ اس دوران کسی بھی ٹی وی چینل یا اخبارات میں سیاسی اشتہارات نہیں دکھائے جاسکیں گے۔ الیکشن کمیشن کو خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف سخت کارروائی کا اختیار ہے۔

تاریخ پر نظر دورائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آج ختم ہونے والی مہم ملکی تاریخ میں سن 1970ء کے بعد پرتشدد ترین اور خونریز مہم تھی جس میں متعدد بم دھماکے اور خود کش حملے ہوئے جن میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے۔ امیدواروں پر فائرنگ بھی ہوئی اور فائرنگ کے نتیجے میں جانی نقصان بھی ہوا۔ آخری دن اغواء کی واردت بھی ہوئی۔

مجموعی طور پر نصف درجن سیاسی جماعتیں پر تشدد واقعات کا نشانہ بنیں۔ سب سے زیادہ نقصان عوامی نیشنل پارٹی کو اٹھانا پڑا جبکہ متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلز پارٹی کو تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

مبصرین اور سیاسی تجریہ نگاروں کے مطابق حیران کن طور پر پیپلز پارٹی جس کے پاس بڑے رہنماؤں کی کمی نہیں لیکن ’بھٹو فیکٹر‘ قابل ِاثر نہ ہونے کے سبب وہ اپنا ایک بھی جلسہ نہ کرسکی جبکہ دینی جماعتیں بھی اس بار اپنے آپ کو تشدد سے نہ بچا سکیں جمعیت علمائے اسلام ف اور جماعت اسلامی پر بھی دہشت گردانہ حملے ہوئے۔

اس پرتشدد مہم کے پیش نظر پاکستانی فوج سمیت تمام سیکورٹی اداروں نے ووٹنگ کے روز حساس ترین پولنگ اسٹیشنز پر فوج کی تعیناتی جس حد تک ممکن ہو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر سے جاری اعلامیے کے مطابق الیکشن کیلئے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور سیکورٹی پلان کو حتمی شکل دی جاچکی ہے۔ پلان کے تحت حساس ترین پولنگ اسٹیشنز پر فوجی اہلکاروں کی تعیناتی مقامی انتظامیہ، انٹیلی جنس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مقامی آرمی کمانڈرز کی رائے سے مشروط ہوگی۔

اعلامیہ کے مطابق انتخابی ڈیوٹیز کیلئے فوجی اہلکاروں کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 245کے تحت ہوگی۔

کل یعنی جمعہ کی رات ملک بھر میں قائم پولنگ اسٹیشنوں کاکنٹرول پریزائیڈنگ آفیسرز کے حوالے کردیاجائے گا۔ پولنگ بیگ ان کے حوالے کردئیے جائیں گے۔ بیلٹ پیپرز11 مئی کی صبح پولنگ ایجنٹس کی موجودگی میں کھولے جائیں گے۔

عمران خان ووٹ نہیں ڈال سکیں گے
انتہائی بیماری کے باوجود اسپتال کے بستر سے عوام کو وٹ ڈالنے کی تلقین کرنے والے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان بذات خود ووٹ نہیں ڈال سکیں گے۔ ان کے ذاتی معالج نے انہیں ووٹ ڈالنے کیلئے میانوالی جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔

شوکت خانم اسپتال لاہور کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فیصل سلطان نے جمعرات کو عمران خان کی صحت کے بارے میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایم آر آئی رپورٹ کے مطابق ان کی ریڑھ کی ہڈی کو نقصان نہیں پہنچا اور وہ بہت تیزی کے ساتھ صحتیاب ہو رہے ہیں۔ اگلے ایک سے دو روز میں اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ عمران مزید کتنے دن اسپتال میں رہیں گے تاہم یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنا ووٹ کاسٹ کرنے میانوالی جاسکیں۔

عمران خان دو روز قبل لاہور میں جلسے سے خطاب کیلئے اسٹیج پر چڑھتے ہوئے لفٹر سے گر کر زخمی ہوگئے تھے، جس سے ان کی پسلیوں میں 3 فریکچر اور سر میں چوٹ لگ گئی تھی۔
XS
SM
MD
LG