رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کی تاریخ میں بجلی بندش کے بڑے واقعات


ٹائم اسکوائر پر بڑے تشہیری بورڈز بجلی کی بندش کے باعث بند پڑے ہیں۔

نیویارک کے مرکز مین ہیٹن میں اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہونے کی وجہ سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

بجلی کی بندش ہفتے کی شب ہوئی جس کے باعث معروف سیاحتی مرکز ٹائمز اسکوائر بھی اندھیرے میں ڈوب گیا۔ علاقے میں ٹریفک سگنلز بند ہوگئے، برقی سیڑھیاں رک گئیں اور کانسرٹ اور تھیٹر شوز متاثر ہوئے۔

بجلی کا بریک ڈاؤن لگ بھگ تین گھنٹے طویل تھا جس سے 70 ہزار سے زائد صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکہ میں بجلی کی بندش کے اس طرح کے واقعات کم ہی ہوتے ہیں۔ ہم یہاں امریکی تاریخ میں بجلی بندش کے چند بدترین واقعات پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

1. شمال مشرقی علاقوں میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن (1965)

نو نومبر 1965 کو امریکی تاریخ میں بجلی کی فراہمی میں بدترین تعطل آیا جس سے تین کروڑ صارفین متاثر ہوئے۔ بجلی کے اس بریک ڈاؤن کی وجہ انسانی غلطی قرار دی گئی تھی۔

ہفتے کو ہونے والے بریک ڈاؤن کے دوران ٹائمز اسکوائر کی اسکرینیں بند ہیں۔
ہفتے کو ہونے والے بریک ڈاؤن کے دوران ٹائمز اسکوائر کی اسکرینیں بند ہیں۔

تیرہ گھنٹے تک بجلی سے جو ریاستیں متاثر ہوئی تھیں ان میں نیویارک، نیوجرسی، نیو ہیمپشر، روڈز آئس لینڈ، کنکٹیکٹ، پنسلوینیا اور ورمونٹ شامل ہیں۔

2. نیویارک (1977)

نیویارک شہر میں 1977 میں ہڈسن ریور کے سب اسٹیشن میں یکے بعد دیگرے دھماکے ہوئے تھے جس کی وجہ سے کئی علاقے بجلی سے محروم ہو گئے تھے۔

اس دوران ہنگاموں اور لوٹ مار کے متعدد واقعات پیش آئے تھے اور صرف کراؤن ہائٹس کی 75 دکانوں کو لوٹا گیا تھا۔ ہنگاموں میں 550 پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے تھے۔ بجلی کی فراہمی کے بعد لوٹ مار میں ملوث 4500 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

3. ​مغربی شمالی امریکہ (1996)

موسم گرما میں بجلی کی طلب میں اضافے کے باعث مغربی شمالی امریکہ میں بجلی کی ٹرپنگ کا سلسلہ شروع ہوا جس کے دوران شہری کئی کئی گھنٹوں تک بجلی سے محروم رہے۔

وولٹیج کی کمی اور گرڈ اسٹیشنز کی خرابی کی وجہ سے کیلی فورنیا، ایریزونا، نیو میکسیکو، مونٹانا اور یوٹا کے تقریباً 40 لاکھ افراد بجلی سے محروم رہے۔

4. شمال مشرقی علاقوں میں بریک ڈاؤن (2003)

شمال مشرقی علاقوں میں 1965 کے بعد دوسرا بڑا بجلی کا بریک ڈاؤن ہوا تھا جس کی وجہ سے آٹھ ریاستوں کے ساڑھے چار کروڑ صارفین متاثر ہوئے۔

بجلی کی بندش کے بعد ہر جگہ اندھیرا ہی اندھیرا چھا گیا۔
بجلی کی بندش کے بعد ہر جگہ اندھیرا ہی اندھیرا چھا گیا۔

فرسٹ انرجی کارپوریشن کو بجلی کی فراہمی میں تعطل کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ متاثرہ ریاستوں میں اوہایو، نیویارک، مشی گن، نیو جرسی، ورمونٹ، کنکٹیکٹ اور نیو جرسی شامل تھیں۔

5. جنوب مغربی علاقوں میں بجلی کی بندش (2011)

کیلی فورنیا میں موسمِ گرما کے اختتام پر شدید گرمی کی وجہ سے بجلی کا طویل بریک ڈاؤن ہوا تھا جسے ریاست کی تاریخ میں سب سے بڑا بریک ڈاؤن قرار دیا گیا۔ ریاست کیلی فورنیا کو بجلی زیادہ تر ریاست ایریزونا سے سپلائی ہوتی ہے۔

اس بریک ڈاؤن کے دوران کیلی فورنیا میں 12 گھنٹے تک بجلی کی فراہمی بند رہی تھی اور تقریباً 27 لاکھ افراد بجلی سے محروم رہے۔

تاریکی میں ڈوبے مین ہیٹن کا فضائی منظر
تاریکی میں ڈوبے مین ہیٹن کا فضائی منظر

6. مڈ ویسٹ (2012)

جون 2012 میں ڈریکو طوفان کی وجہ سے تیز ہواؤں کی زد میں آنے سے بجلی فراہم کرنے والے نظام کو شدید نقصان پہنچا تھا جس سے ریاست اوہایو، ویسٹ ورجینیا، پنسلوینیا، واشنگٹن، میری لینڈ اور نیو جرسی کے 42 لاکھ صارفین کو بجلی کی فراہمی بند رہی تھی۔

مذکورہ ریاستوں کے بعض علاقوں میں بجلی کی مکمل فراہمی میں سات سے دس روز لگے تھے۔

7. چھ ریاستوں میں بحلی بند (2012)

امریکہ کی 24 ریاستوں میں سینڈی طوفان نے سال 2012 میں جہاں تباہی مچائی وہیں بجلی کی فراہمی کے نظام کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔

صرف نیویارک میں سیلاب کی وجہ سے 18 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ شہر کو بجلی کی فراہمی بھی متاثر رہی تھی اور کئی علاقوں میں بعض افراد کو دو ہفتے تک بجلی سے محروم رہنا پڑا۔

ریاست فلوریڈا، مشی گن، نیوجرسی، نیویارک، وسکونسن اور مین میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن رہا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG