رسائی کے لنکس

logo-print

لاہور دھماکہ: فیس بک نے غلط سیفٹی نوٹیفیکشن پر معافی مانگ لی


فیس بک انتظامیہ نے اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ بدقسمتی سے بہت سے وہ لوگ جو سانحے سے متاثرہ علاقے میں نہیں تھے انھیں بھی یہ نوٹیفیکشن موصول ہوا جس سے انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک نے اپنے 'سیفٹی چیک الرٹ نظام' میں پیدا ہونے والے مسئلے پر معافی مانگ لی ہے جس میں لاہور بم دھماکے کے بعد غلطی سے فیس بک کے ان صارفین کو بھی حفاظتی الرٹ جاری کردیے گئے تھے جو لاہور میں نہیں رہتے۔

فیس بک نے اتوار کو لاہور بم دھماکے کے بعد صارفین کی خیریت سے متعلق سیفٹی نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس میں لوگوں سے پوچھا گیا تھا کہ کیا آپ دھماکے سے متاثر ہوئے ہیں؟

لیکن یہ الرٹ لاہور کے علاوہ بھارت، مصر اور امریکہ میں رہنے والے صارفین کو بھی موصول ہوا تھا۔

فیس بک پر اس حفاظتی نوٹیفکیشن کو ان لوگوں نے بھی وصول کیا جو لاہور سے دور یورپ، ایشیا اور افریقہ کے مختلف ممالک میں رہتے ہیں اور متاثرہ علاقے سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔

واضح رہے کہ اتوار کو لاہور کے ایک پارک میں خود کش دھماکے کے نتیجے میں 70 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوگئے تھے جس کے فوراً بعد فیس بک نے سیفٹی چیک نظام موثر کردیا تھا۔

فیس بک نے اپنی ویب سائٹ پر ایک پوسٹ میں اس مسئلے کے حوالے سے معذرت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہم نے آج سیفٹی چیک کو لاہور میں بم دھماکے کے بعد جاری کیا تھا۔ ہمیں امید ہے کہ بم دھماکے سے متاثرہ علاقے کے صارفین نے اس فیچر کو اپنے دوستوں اور رشتے داروں کی خیریت سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے مفید پایا ہوگا۔

فیس بک انتظامیہ نے اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ بدقسمتی سے بہت سے وہ لوگ جو سانحے سے متاثرہ علاقے میں نہیں تھے انھیں بھی یہ نوٹیفیکشن موصول ہوا جس سے انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

فیس بک کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی خرابی الرٹ کے مقاصد سے متصادم ہے اور ہم نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے ہیں اور ہم ان تمام افراد سے معذرت کرتے ہیں جنھیں غلطی سے یہ حفاظتی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

فیس بک کا سیفٹی فیچر صارفین کو کسی سانحے یا قدرتی آفات کی صورت میں اپنے پیاروں اور دوستوں کو اپنی خیریت سے آگاہ کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا جو صرف متاثرہ علاقے کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔

فیس بک کے شریک بانی مارک زکربرگ نے اکتوبر 2014ء میں سیفٹی چیک کا نظام متعارف کرایا تھا اور اسے قدرتی آفات کے وقت موثر کیا جاتا ہے۔

لیکن حال ہی میں فیس بک نے سیفٹی چیک نظام کو پیرس اور بیلجیم میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد موثر کیا تھا اور اس بار حفاظتی اطلاعات لاہور بم دھماکے کے بعد جاری کی گئی تھیں۔

XS
SM
MD
LG