رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا ویکسین بنانے کا پلانٹ تیار، ماہانہ 30 لاکھ خوراکوں کی پیداوار کا امکان


 ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) میں پلانٹ گزشتہ ماہ ہی قائم کیا گیا ہے اور اب وہاں ویکسین کی تیاری کے حوالے سے مختلف ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔
ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) میں پلانٹ گزشتہ ماہ ہی قائم کیا گیا ہے اور اب وہاں ویکسین کی تیاری کے حوالے سے مختلف ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

وزیرِ اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کرونا ویکسین پراسیس ہونے کے بعد ماہانہ تیس لاکھ ویکسین کی خوراکیں پاکستان کے اندر تیار ہونا شروع ہو جائیں گی۔

دوسری جانب پاکستان میں بیرون ممالک سے ویکسین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور ’کوویکس‘ پروگرام کے تحت پاکستان کو ایسٹرازینیکا ویکسین کی 12 لاکھ خوراکوں کی پہلی کھیپ موصول ہوگئی ہے۔

وائس آف امریکہ سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) میں پلانٹ گزشتہ ماہ ہی قائم کیا گیا ہے اور اب وہاں ویکسین کی تیاری کے حوالے سے مختلف ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امکان ہے کہ مئی کے آخر میں ویکسین کی باقاعدہ پیداوار کا آغاز ہو جائے گا جس کے بعد چین کی تیار کردہ ویکسین پاکستان میں ہی تیار ہونے لگے گی اور پاکستان کو ماہانہ تیس لاکھ خوراکیں صرف این آئی ایچ میں قائم کردہ اس پلانٹ سے دستیاب ہوں گی۔

کوویکس کے تحت پاکستان کو ایسٹرازینیکا ویکسین کی فراہمی

پاکستان میں بیرون ممالک سے کرونا ویکسین کی آمد جاری ہے اور ’کوویکس‘ پروگرام کے تحت پاکستان کو ایسٹرازینیکا ویکسین کی پہلی کھیپ موصول ہو گئی ہے۔

اسلام آباد میں نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے پہلی کھیپ وصول کی۔ اس موقع پر پاکستان میں تعینات برطانیہ کے سفیر کرسچن ٹرنر بھی موجود تھے۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ پہلی کھیپ میں 12 لاکھ 38 ہزار 400 افراد کے لیے ویکسین ہے۔ جس کے بعد چند دنوں میں 12 لاکھ 36 ہزار افراد کے لیے مزید ویکسین پاکستان پہنچ جائے گی۔

ڈاکٹر فیصل سلطان کا مزید کہنا تھا کہ اس غیر معمولی بحران میں، جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، پاکستان میں کرونا وائرس سے لڑنے کی اجتماعی کوششوں میں ’کوویکس‘ کے تعاون کو تہہ دل سے سراہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ویکسی نیشن مراکز میں ایک دن میں تقریباً دو لاکھ افراد کو ویکسین کے انجکشن لگ رہے ہیں اور بہت جلد یومیہ پانچ لاکھ افراد کو ویکسین دینے کے قابل ہو جائیں گے۔

اس موقع پر موجود عالمی ادارہٴ صحت کی نمائندہ ڈاکٹر لیتھا گنارتھنا مہیپالا نے کہا کہ یہ ویکسین کئی کلینیکل ٹرائلز سے گزر چکی ہے اور اس کے بعد ہی اسے پاکستان اور دنیا بھر میں استعمال کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت عالمی ادارہٴ صحت ’ڈبلیو ایچ او‘ کی توجہ وبا کے خاتمے کے لیے پاکستان کی بھر پور معاونت پر مرکوز ہے اور اس میں ویکسین کی نئی کھیپ اور صحت عامہ کے اقدامات بھی شامل ہیں جو 15 ماہ سے جاری ہیں۔

پاکستان میں کرونا کی کتنی ویکسین آئی ہے؟

پاکستان میں اب تک موصول ہونے والی ویکسین کی خوراکوں کی تعداد 50 لاکھ سے زائد ہو چکی ہے۔ جب کہ ملک بھر میں 33 لاکھ 20ہزار سے زائد لوگوں کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔

اس بارے میں این سی او سی کے اعداد و شمار کے مطابق چین سے سب سے زیادہ 30 لاکھ ویکسین کی خوراکیں درآمد کی گئی ہیں۔ جب کہ ’کوویکس‘ پروگرام کے تحت برطانیہ سے 12 لاکھ اور تجارتی پروگرام کے تحت روس سے ’اسپوتنک فائیو‘ ویکسین کی پانچ لاکھ سے زائد خوراکیں پاکستان آئی ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک سات لاکھ سے زائد ہیلتھ ورکرز اور 26 لاکھ سے زائد عام شہریوں کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔

پاکستان میں ویکسین سب سے پہلے چین کی طرف سے تحفہ کے طور پر پانچ لاکھ خوراکوں کی صورت میں موصول ہوئی تھی جس کے بعد پاکستان میں ہیلتھ ورکرز کی ویکسی نیشن کا آغاز کیا گیا تھا۔

اس کے بعد چین کی طرف سے مزید پانچ لاکھ خوراکیں اور اس کے بعد 30 لاکھ سے زائد چین کی ’سائنو فارم‘ ویکسین اور ’کین سینو‘ ویکسین پاکستان فضائیہ اور پی آئی اے کے طیاروں کے ذریعے ملک میں لائی جا چکی ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان میں اس وقت دو لاکھ سے زائد افراد کو یومیہ ویکسین لگائی جا رہی ہے اور اب تک 40 سال سے زائد عمر کے افراد کو اس مہم میں شامل ہونے پر تیزی آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

XS
SM
MD
LG