رسائی کے لنکس

logo-print

معروف برطانوی آرکیٹیکٹ زاھا حدید انتقال کر گئیں


ان کی فرم 'الحدید آرکیٹیکٹس' کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''ہم انتہائی دکھ کے ساتھ تصدیق کرتے ہیں کہ ماہر تعمیرات زھا حدید جمعرات کی صبح میامی میں اچانک انتقال کر گئی ہیں۔''

معروف خاتون آرکیٹیکٹ زھا حدید جمعرات کے روز میامی کے ایک اسپتال میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئی ہیں۔ انھوں نے ابوظہبی کے' شیخ زید برج' اور لندن کے 'اولمپک ایکواٹک سینٹر' جیسی عمارتوں کے شاندار ڈیزائن کےحوالے سے شہرت حاصل تھی۔

معروف عراقی نژاد برطانوی آرکیٹیکٹ زاھا حدید تاریخ کی تعمیرات کے شعبے سے وابستہ کامیاب خواتین میں سے ایک ہیں۔ وہ پہلی آرکیٹیکٹ خاتون ہیں جنھیں ان کے شاندار ڈیزائنز کے اعتراف میں 'پرٹزکر پرائز' سے نوازا گیا جسے تعمیرات کی دنیا کا نوبل انعام تصور کیا جاتاہے۔

ان کی فرم 'الحدیدآرکیٹیکٹس' کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''ہم انتہائی دکھ کے ساتھ تصدیق کرتے ہیں کہ ماہر تعمیرات زاھا حدید جمعرات کی صبح میامی میں اچانک انتقال کر گئی ہیں۔''

تفصیلات کے مطابق انھیں اس ہفتے برونکائٹس کی تکلیف کی وجہ سے میامی کے ایک اسپتال میں لایا گیا جہاں اچانک دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہو گیا۔

محترمہ حدید کو ان کی ڈیزائن کردہ دنیا کی چند قابل ذکر عمارتوں کےحوالے سے شہرت حاصل ہے۔

ان کی ڈیزائن کردہ خوبصورت عمارتوں میں روم کا اکیسویں صدی کی فن تعمیر کا شاندار نمونہ اطالوی عجائب گھر، آذر بائجان کا حیدر علیوف کلچرل سینٹر، ہانگ کانگ کا جوکی انوویشن ٹاور، بیجنگ کی گیلکسی سوہو عمارت اور جرمنی کا وٹرا فائر اسٹیشن اور دیگر کئی خوبصورت عمارتیں شامل ہیں۔

الحدید نے لندن کے منظر نامے پر گہری چھاپ چھوڑی ہے۔ لندن میں ان کی ڈیزائن کردہ سرپینٹائن سیکلر گیلری اور ایوالین گریس اکیڈمی اور سکاٹ لینڈ میں گلاسگو ٹرانسپورٹ میوزیم برطانیہ کی شاندار عمارتوں میں سے چند ہیں۔

انھوں نے 2012'ڈیم کمانڈر آف دا آرڈر آف دا برٹش ایمپائر' کا شاہی اعزاز حاصل کیا۔

انھیں ان کے فن تعمیر کے اعتراف میں اس سال رائل انسٹی ٹیوٹ آف برٹش آرکیٹیکٹ ’ریبا‘ گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔

ان کی ڈیزائن کردہ عمارتیں فنون لطیفہ، سائنس اور ٹیکنالوجی کے جدید تقاضوں کو پورا کرتی ہیں جس سے ان کے جمالیاتی ذوق کی عکاسی ہوتی ہے۔

انھیں مجسماتی ایجادات اور بے مثال شکلوں والی عمارتوں کی وجہ سے کوئین آف کَروز یا 'خمیدہ خطوط کی ملکہ' بھی کہا جاتا ہے۔

وہ واحد خاتون آرکیٹیکٹ تھیں جو دنیا بھر کے صف اول کے ماہر تعمیرات کے درمیان نمایاں تھیں اور اپنے پیشے کے اشرافیہ آرکیٹیکٹ گروپ میں شامل رہی ہیں۔

ان کی ڈیزائن کردہ عمارتیں زیادہ تر تعمیراتی، ارضیاتی اور دلکش نظارے کے مجموعے کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کے پیشہ ورانہ کیرئیر میں 950 منصوبوں کو دنیا کے 44 ممالک میں تعمیر کیا گیا۔

زاھا الحدید اکتوبر 1950میں بغداد میں پیدا ہوئیں۔ انھوں نے بیروت میں ایک امریکی یونیورسٹی سے ریاضی کی ڈگری حاصل کی جس کے بعد لندن میں آرکیٹیکچرل ایسوسی ایشن سے گریجویشن مکمل کی۔

1979 میں انھوں نے لندن میں انتظامی مشاورتی اور تعمیراتی ماحول کی خدمات فراہم کرنے والی ایک خودمختار کمپنی 'زھا الحدید آرکیٹیکٹس' کے نام سے قائم کی۔

XS
SM
MD
LG