رسائی کے لنکس

logo-print

روزہ جگر کی بیماریوں کےخلاف لڑنے میں مدد کرتا ہے: تحقیق


روزوں کے اثرات پر کی جانے والی ایک نئی تحقیق سےیہ اچھی خبر سامنے آئی ہے کہ روزے کی حالت میں ہمارے جسم کو فربہ جگر کی بیماری سے چھٹکارا پانے میں مددملتی ہے۔

روزے کے فوائد کےحوالے سے سائنس دان برسوں سے تحقیق میں مصروف ہیں جب کہ میڈیکل سائنس کی ترقی کے ساتھ وہ یہ بتانے کے قابل ہو گئے ہیں کہ روزہ ایک حیرت انگیز طبی علاج ہے ۔

روزے کے اثرات پر کی جانے والی ایک نئی تحقیق سے یہ اچھی خبر سامنے آئی ہے کہ روزے کی حالت میں ہمارے جسم کو 'فربہ جگر' کی بیماری سے چھٹکارا پانے میں مدد ملتی ہے۔

نئی تحقیق میونخ میں 'جرمن ریسرچ سینٹر فار اینوئرمنٹل ہیلتھ' سے وابستہ سائنس دانوں کی قیادت میں ہوئی۔ جس سے یہ اہم معلومات حاصل ہوئی ہے کہ روزے کی وجہ سے جگر کے خلیات ایک مخصوص پروٹین کی پیداوار میں اضافہ کردیتے ہیں،جو جگر میں فیٹی ایسڈ کے جذب کو کنٹرول کرتا ہے۔

دنیا بھر میں زیادہ وزنی افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد جدید معاشرے کے اہم مسائل میں شامل ہے۔خاص طور پر ٹائپ ٹو ذیا بیطس اور جگر کی بیماریوں کے صحت کے لیے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں لیکن محدود ڈائیٹ کھانے جیسا کہ فاقے یا روزے رکھنے کی وجہ سے میٹا بولزم کو واپس معمول پر لانے میں مدد ملتی ہے تاہم یہاں سائنس دان یہ جاننا چاہتے تھے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟

ہیلم ہولٹز زینٹریم میونخ کے سائنس دان نئے مطالعے میں یہ بھی دیکھنا چاہتے تھے کہ جب ہم بھوکے ہوتے ہیں تو مالیکولز کی سطح پر کیا اثر پڑتا ہے ؟

آن لائن سائنسی پیپر ' ایمبو مالیکیولر میڈیسن' میں چھپنے والی تحقیق میں پروفیسر ڈاکٹر اسٹیفن ہرزیگ نے اس کا جواب دیا ہے کہ خوراک کی محرومی یا کمی پر جسم ایک مخصوص پروٹین GADD45β بناتا ہے جو جگر میں میٹابولزم کو کنٹرول کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''جب ہم ایک بار میٹابولزم پر روزے کے اثرات سمجھ لیتے ہیں تو ہم اس کا اثر علاج میں لانے کی کوشش کرسکتے ہیں''۔

GADD45β پروٹین پر دباؤ جگر میں فیٹی ایسڈ کے جذب کو کم کرتا ہے:

موجودہ مطالعہ میں سائنس دانوں نے جگر کے خلیات کی جینیاتی سرگرمیوں میں اختلافات کو دیکھا ہے جو روزے کا ردعمل تھا۔

وہ یہ ظاہر کرنے کے قابل ہو گئے تھے کہ GADD45β پروٹین کے لیے جین کو غذا کے حساب سے اکثر مختلف طریقے سے پڑھا جاتا ہے جیسا کہ جتنی زیادہ بھوک بڑھتی ہے اتنی ہی کثرت سے جگر کے خلیات اس پروٹین کو بناتے ہیں۔

محققین کے مطابق ماضی میں اس پروٹین کو میٹا بولزم کی بہتری کے بجائے جینیاتی معلومات کے نقصان کی مرمت کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا۔

بعد میں ہونے والے مزید تجربات کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ یہ پروٹین جگر میں فیٹی ایسڈ کے جذب کو کنٹرول کرنے کے لیے ذمہ دار ہے، جن چوہوں میں اس پروٹین کی کمی رہ گئی تھی ان چوہوں میں فربہ جگر کی بیماری کی ترقی کے امکانات زیادہ تھے۔

جرمن سائنس دان انسانوں میں بھی اس نتیجے کی تصدیق کرنےکے قابل تھے کہ انسانی جسم میں اس پروٹین کی کمی کی وجہ سے جگر میں جربی کے مواد میں اضافہ ہوا اور خون میں شوگر کی سطح میں اضافہ ہوا تھا۔

پروفیسر ڈاکٹر اسٹیفن ہرزیگ نے کہا کہ ''جگر کے خلیات پر دباؤ نے اس پروٹین کی پیداوار کی حوصلہ افزائی کی تھی جس نے میٹا بولزم کو کم کھانے کی مقدار کے ساتھ ایڈجسٹ کیا تھا۔۔''

محققین اب یہ نتائج جگر میں چربی اور شوگر میٹابولزم کے علاج میں استعمال کرنا چاہتے ہیں تاکہ خوراک کی کمی یا روزے کے مثبت اثرات کو علاج کے لیے استعمال کیا جاسکے

XS
SM
MD
LG