رسائی کے لنکس

ایرانی خاتون فلم ساز کو دس سال قید کی سزا: ذرائع


ایرانی فلم ساز خاتون مریم ابراہیم وند، فائل فوٹو

ایک ایرانی فلم ساز مریم ابراہیم واند کو ان کے کام اور حکومت پر تنقید کی پاداش میں دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ اطلاع ایران سے ذرائع نے دی ہے، جن کا کہنا ہے کہ مریم نے بھوک ہڑتال بھی کی تھی، اور حالیہ مہینوں میں اپنی حالت زار سے تنگ آ کر خودکشی کی کوشش بھی کی۔

پیر کے روز وائس آف امرکہ کی فارسی سروس سے ایران سے بات کرتے ہوئے، مریم کے خاندان کے ایک قریبی ذرائع نے بتایا کہ مریم کے وکیل کو اطلاع دی کہ عدالت نے انہیں دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ مریم کی ایک فلم کو بیہودہ قرار دے کر سات سال قید، اور پاسدارانِ انقلاب کے خلاف مبینہ طور پر غلط اطلاعات کی تشہیر پر دو سال اور مبینہ طور پر ایرانی صدر حسن روحانی کی تضحیک کرنے پر ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

مریم سن 2018 سے جیل میں ہیں۔ وائس آف امریکہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ مریم کو ایران میں لڑکیوں کی عصمت دری کے موضوع پر گرلز بورڈنگ ہاؤس نامی ایک فلم بنانے پر سات برس سزا دی گئی۔ اس کے علاوہ، ایک انسٹاگرام پوسٹ میں پاسدارانِ انقلاب پر یہ الزام عائد کرنے کی پاداش میں کہ ان کے جبر پر مبنی رویے کی وجہ سے نوجوان نقل مکانی کر رہے ہیں، مریم کو دوسال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم کو ایک سال قید کی سزا صدر روحانی کی ثقافتی پالیسی پر تنقید کرنے پر دی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ صدر روحانی نے فلم سازوں سے ایک ملاقات کی تھی۔ تاہم یہ مبینہ ملاقات کب ہوئی، اس بارے میں ذرائع نے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

اگر مریم اپیل میں جاتی ہیں اور ان کی اپیل منظور نہیں کی جاتی، تو اس صورت میں انہیں سزا کی طویل ترین مدت، یعنی سات برس جیل میں گزارنا ہوں گے۔

اسلام آباد میں امن فلم فسٹیول
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:48 0:00

ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم اور ان کے وکیل کو مقدمے کی دستاویزات تک رسائی نہیں دی گئی۔

حالیہ ہفتوں میں ریاستی تحویل میں چلنے والے میڈیا میں ایرانی حکام نے مریم کے مقدمے کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا۔

ذرائع نے بتایا کہ مریم نے اس سال 20 اپریل کو بھوک ہڑتال کر دی تھی جو 19 دن کے بعد اس وقت ختم کر دی گئی تھی جب ایرانی حکام نے ان کی تشویش ناک حالت کے پیش نظر انہیں جواب دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں وہ جواب کبھی موصول نہیں ہوئے، جس کی وجہ سے وہ سخت دباؤ میں تھیں اور اٹھارہ ستمبر کو انہوں نے جیل میں خود کشی کی کوشش کی تھی۔ تاہم انہیں فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا جس سے وہ بچ گئی تھیں۔ لیکن جلد ہی انہیں دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔

وائس آف امریکہ مریم کی اس وقت کی صورت حال کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کر سکتا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG