رسائی کے لنکس

logo-print

فِن لینڈ کے ہوائی اڈے پر کرونا وائرس کی شناخت کے لیے کتے تعینات


ہلسنکی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کرونا وائرس کی شناخت کے لیے کتے تعینات کیے گئے ہیں۔ 22 ستمبر 2020

کرونا وائرس کے ٹیسٹ سے خوف کھانے والوں کے لیے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ اب اس موذی وبا کا پتا چلانے کے لیے ایک بہت ہی سادہ اور ارزاں طریقہ ڈھونڈ لیا گیا ہے جس میں ذرا سی بھی تکلیف نہیں ہوتی اور نتیجہ بھی چند سیکنڈز میں سامنے آتا ہے۔ یہ نیا طریقہ فن لینڈ کے ہلسنکی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر متعارف کرایا گیا ہے۔

ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کتے سونگھ کر ایسے افراد کا کھوج لگا سکتے ہیں جنہیں کرونا وائرس لگ چکا ہو۔ چاہے اس کی علامات ظاہر ہوئی ہوں یا ابھی اپنی ابتدائی اسٹیج میں ہوں۔

کتے میں سونگھنے کی صلاحیت غیر معمولی طور پر زیادہ ہوتی ہے۔ اس مخصوص صلاحیت کی وجہ سے منشیات کا کھوج لگانے، بارودی مواد تلاش کرنے، جرائم کی تحقیقات اور مجرموں کی شناخت کے لیے ان کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔

کچھ عرصہ قبل ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ کتے محض سونگھ کر کینسر کا قبل از وقت پتا چلا لیتے ہیں۔ کینسر کی بر وقت تشخیص ہو جانے سے مریض کی زندگی بچانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

فن لینڈ کے ایئرپورٹ پر کرونا وائرس کی شناخت کرنے والے سدھایے ہوئے کتے تعینات کیے گئے ہیں۔
فن لینڈ کے ایئرپورٹ پر کرونا وائرس کی شناخت کرنے والے سدھایے ہوئے کتے تعینات کیے گئے ہیں۔

اور اب ماہرین نے کینسر کے بعد کرونا وائرس کے مریضوں کا پتا چلانے کے لیے بھی کتے کی اس صلاحیت سے کام لینا شروع کر دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے نتائج تقریباً 100 فی صد ہیں۔ سونگھنے والے کتے نے جس شخص میں بھی کرونا وائرس کی موجودگی کا سگنل دیا۔ جب اس کا لیبارٹری ٹیسٹ کیا گیا تو اس میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کتوں نے سونگھ کر کئی ایسے مریضوں کی نشان دہی کی جن میں اس وقت تک مرض کی علامتیں بھی ظاہر نہیں ہوئیں تھیں۔

کھوج لگانے والے کتے ایک مخصوص نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی سونگھنے کی حس دوسرے کتوں کے مقابلے میں نہ صرف زیادہ ہوتی ہے بلکہ انہیں اس کام کے لیے سدھایا بھی جا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کسی مرض کے جراثیم یا وائرس کسی انسان پر حملہ کرتے ہیں۔ تو دیگر علامتوں کے ساتھ ساتھ اس کے جسم میں ایک خاص قسم کی بو بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ بو جراثیم کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ کتا نہ صرف اس بو کو محسوس کر سکتا ہے بلکہ اسے شناخت بھی کر سکتا ہے۔

کرونا وائرس کی شناخت کے لیے ایک کتے کو تربیت دی جا رہی ہے۔
کرونا وائرس کی شناخت کے لیے ایک کتے کو تربیت دی جا رہی ہے۔

یورپ میں حال ہی میں کرونا وائرس کی شناخت کے لیے کتوں کے ایک گروپ کو تربیت دی گئی ہے اور کامیابی کے مراحل سے گزرنے کے بعد انہیں فن لینڈ کے سب سے مصروف ہلسنکی انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر تعینات کیا گیا ہے۔

اکثر یورپی ممالک میں داخلے کے لیے کرونا ٹیسٹ ضروری ہے۔ اور ٹیسٹ کا رزلٹ ملنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ جب کہ کتا سونگھ کر صرف 10 سیکنڈز میں وائرس کی موجودگی یا عدم موجودگی کے متعلق بتا دیتا ہے۔

ہلسنکی انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اترنے والے مسافروں کو دو آپشن دیے جاتے ہیں کہ یا تو وہ کرونا وائرس کے ٹیسٹ کے لیے اپنا سمپل دیں یا کتے سے اپنا معائنہ کرائیں۔

مسافروں کو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ یہ ٹیسٹ بے ضرر ہے۔ اس کا نتیجہ فوری مل جائے گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کتے کے سامنے پیش نہیں ہونا پڑے گا۔

حامی بھرنے پر ایئر پورٹ کا ایک اہلکار مسافر کو کپڑے کا ایک رومال دے کر اپنی گردن پر پھیرنے کے لیے کہتا ہے۔ پھر اس رومال کو ایک خاص ڈبے میں ڈال کر دوسرے بوتھ میں بھیج دیا جاتا ہے۔ جہاں قطار میں کئی تربیت یافتہ کتے بیٹھے ہوتے ہیں۔ جن میں سے کوئی ایک کتا اسے چند سیکنڈز تک سونگھتا ہے اور پھر وائرس کے ہونے یا نہ ہونے کا مخصوص اشارہ دیتا ہے۔

سب ٹھیک ہے کا سگنل ملنے پر مسافر کو ایئر پورٹ سے باہر جانے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ دوسری صورت میں اسے مزید جانچ پرکھ کے لیے ایئر پورٹ کے طبی عملے کے پاس بھیج دیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فن لینڈ میں کامیابی کے بعد اکثر ممالک کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر کرونا وائرس کی شناخت کے لیے کتوں کا استعمال شروع ہو جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG