رسائی کے لنکس

بجلی سے اڑنے والے دنیا کے پہلے کمرشل جہاز کی کامیاب پرواز


کمپنی ہاربر ایئر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس پرواز سے ہوا بازی کے تیسرے دور کا آغاز ہوا ہے

کینیڈا میں مکمل طور پر بجلی سے اُڑنے والے دنیا کے پہلے کمرشل جہاز کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ یہ جہاز ایک نجی کمپنی کی ملکیت تھا جسے کمپنی کے مالک خود اڑا رہے تھے۔

ہاربر ایئر کی ملکیت اس جہاز نے کینیڈا کے شہر وینکوور میں منگل کو اڑان بھری اور 15 منٹ سے کچھ کم وقت تک ہوا میں رہنے کے بعد لینڈنگ کی۔ یہ سطح سمندر سے پرواز کرنے والا ایک چھوٹا جہاز تھا جو 62 سال پرانا تھا۔

جہاز میں مکمل طور پر بجلی سے چلنے والی 750 ہارس پاور کی ایک موٹر نصب تھی جس کی طاقت پر اس جہاز نے پرواز کی۔ جہاز میں چھ سیٹیں نصب کی گئی تھیں۔

ہاربر ایئر کے اس جہاز کو کمپنی کے مالک گریگ مک ڈوگل اڑا رہے تھے۔ لینڈنگ کے بعد مک ڈوگل نے کہا کہ آج ہم نے تاریخ رقم کر دی۔

انہوں نے اپنی کمپنی کی اس جدت کی بھی تعریف کی جس کے تحت 62 برس پرانے جہاز میں الیکٹرک موٹر نصب کر کے دنیا کی پہلی کمرشل پرواز کا سنگ میل حاصل کیا گیا۔

دوسری جانب جہاز کی مالک کمپنی ہاربر ایئر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس پرواز سے ہوا بازی کے تیسرے دور کا آغاز ہوا ہے جو کہ الیکٹرک دور ہے۔

اس پراجیکٹ پر ہاربر ایئر کے ساتھ بجلی سے چلنے والی موٹریں بنانے والی ایک آسٹریلوی کمپنی میگنی ایکس نے بھی تعاون کیا تھا۔ میگنی ایکس کے مالک روئی گنزرسکی نے کہا ہے کہ اس پرواز سے ثابت ہوا ہے کہ مستقبل قریب میں کم قیمت، ماحول دوست اور کمرشل الیکٹرک فضائی سفر ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

گنزرسکی کے مطابق جہاز کو اڑانے کے لیے لیتھیم بیٹری کی قوت کا استعمال کیا گیا تھا جو اس حجم کے جہاز کو تقریباً 100 میل تک مسلسل اڑا سکتی ہے۔

خیال رہے کہ مکمل طور پر بجلی سے چلنے والے کمرشل جہاز کئی دوسرے ملکوں میں بھی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ برطانیہ کی ایک کمپنی کران فیلڈ ایرواسپیس سولیوشن نے بھی نومبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ برقی جہازوں پر کام کر رہے ہیں۔

البتہ انہوں نے کہا تھا کہ بجلی سے چلنے والی کمرشل فلائٹس 2023 تک شروع ہونے کی توقع ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG