رسائی کے لنکس

او آئی سی کا اجلاس اسلام آباد میں مگر پانچ مسلمان ممالک کے وزرا دہلی کیوں گئے؟


ایک طرف جہاں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں افغانستان کے مسئلے پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس منعقد ہوا اور افغانستان کی فوری مدد پر زور دیا گیا وہیں افغانستان پر بھارت کے دار الحکومت نئی دہلی میں بھی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔

اتوار کو بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کی دعوت پر تیسرے ’انڈیا سینٹرل ایشیا ڈائیلاگ‘ کی میز بانی جے شنکر نے کی جب کہ اس میں وسطی ایشیائی ممالک قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔

کانفرنس میں افغان عوام کی فوری انسانی امداد کی اپیل کی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ افغانستان کی سر زمین کو دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے پناہ، تربیت، دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور مالی امداد کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔

کانفرنس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنا، سرحد پار کی دہشت گردی، دہشت گردی کے لیے مالی اعانت اور انتہا پسندانہ نظریات کی ترویج انسانیت کے بنیادی اصولوں اور بین الاقوامی تعلقات کے منافی ہو گا۔

کانفرنس میں شریک ممالک نے علاقائی رابطہ کاری کے حوالے سے اس بات پر زور دیا کہ وسیع شراکت داری، مقامی ترجیحات، مالیاتی استحکام اور تمام ملکوں کی خود مختاری اور علاقائی یکجہتی کے بنیادی اصولوں کو فروغ دیا جائے گا۔

اس موقع پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا جس میں تمام وزرا نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں کے منصوبہ سازوں اور مالی معاونین کو جواب دہ بنایا جائے اور حوالگی یا عدالتی کارروائی کے اصولوں کے مطابق ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

بیان میں پرامن، محفوظ اور مستحکم افغانستان کا اعادہ کیا گیا اور افغانستان کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور اتحاد کا احترام کرنے اور اس کے اندرونی امور میں مداخلت نہ کرنے پر زور دیا گیا۔

کانفرنس میں شریک وزرا نے افغانستان کی موجودہ صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا اور فوری طور پر افغان عوام کی انسانی بنیاد پر مدد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

بیان کے مطابق اقوام متحدہ کی قرارداد 2593 (2021) کی اہمیت کی نشاندہی کی گئی جس میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے افغانستان کی سرزمین کا استعمال نہ کیا جائے۔

تمام وزرا نے افغانستان کے مسئلے پر قریبی تبادلۂ خیال پر بھی رضا مندی ظاہر کی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ 10 نومبر کو ہونے والی دہلی علاقائی سلامتی کانفرنس کی دستاویز پر غور کیا گیا اور یہ بات محسوس کی گئی کہ افغانستان کے مسئلے پر وسیع پیمانے پر علاقائی اتفاق رائے پایا جاتا ہے جس میں افغانستان میں حقیقی اور جامع نمائندہ حکومت کا قیام بھی شامل ہے۔

افغانستان میں انسانی امداد کے سلسلے میں اقوامِ متحدہ کے کردار کا بھی جائزہ لیا گیا۔ تمام وزرا نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی سے مقابلے کے لیے بین الاقوامی دہشت گردی کے سلسلے میں اقوامِ متحدہ کے کنونشن کو فوری طور پر اختیار کیا جائے۔

ایس جے شنکر نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ بھارت اور وسطی ایشیائی ممالک افغانستان میں نمائندہ اور جامع حکومت کے قیام اور دہشت گردی مخالف لڑائی اور افغان عوام کی انسانی امداد کے سلسلے میں یکساں تشویش رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ وسطی ایشیا کے تمام ملک اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ہیں لیکن اتوار کے روز اسلام آباد میں ہونے والی کانفرنس میں وسطی ایشیا کے یہ پانچ ملک جنہوں نے نئی دہلی کانفرنس میں شرکت کی، ان کے وزرائے خارجہ کے بجائے صرف وفود اسلام آباد میں ہونے والی کانفرنس میں شریک ہوئے تھے۔

  • 16x9 Image

    سہیل انجم

    سہیل انجم نئی دہلی کے ایک سینئر صحافی ہیں۔ وہ 1985 سے میڈیا میں ہیں۔ 2002 سے وائس آف امریکہ سے وابستہ ہیں۔ میڈیا، صحافت اور ادب کے موضوع پر ان کی تقریباً دو درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں سے کئی کتابوں کو ایوارڈز ملے ہیں۔ جب کہ ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں بھارت کی کئی ریاستی حکومتوں کے علاوہ متعدد قومی و بین الاقوامی اداروں نے بھی انھیں ایوارڈز دیے ہیں۔ وہ بھارت کے صحافیوں کے سب سے بڑے ادارے پریس کلب آف انڈیا کے رکن ہیں۔  

XS
SM
MD
LG