رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کیلئے جاپانیوں کی نئی منزل


فائل فوٹو

جاپانی نیوز یجنسی ’کیودو‘ کے مطابق جاپان میں گردے کی پیوندکاری کے متلاشی افراد کیلئے پاکستان ایک اہم مرکز کی حیثیت اختیار کر گیا ہے اور موجودہ سال کے دوران اب تک کم سے کم چار جاپانی شہری پاکستان میں غیر قانونی طور پر گردے کے ٹرانسپلانٹ کروا چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ گردے غریب کمیونٹی کے افراد سے رقم کے عوض خریدے جاتے ہیں۔ غیر ملکیوں کی انسانی اعضاء کی پیوندکاری کیلئے دوسرے ملک کے سفر کو عرف عام میں ’اعضاء کی پیوندکاری کی سیاحت‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

جاپان کی ’کیودو‘ نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ مذکورہ چار جاپانی مریضوں کے گردے ناکارہ ہو چکے تھے اور وہ طویل عرصے سے گردوں کے عطیہ کے منتظر تھے۔

ٹوکیو کی ایک کمپنی نے جاپانی مریضوں کیلئے سرجری کی سہولتیں چین، ویت نام، فلپائن، کمبوڈیا اور پاکستان میں فراہم کرنا شروع کر دی ہیں۔

ان میں سے ایک 60 سالہ جاپانی مریض کا کہنا تھا کہ اس نے پاکستان میں گردے کی پیوندکاری کیلئے ایک کروڑ جاپانی ین (تقریباً 94,000 ہزار امریکی ڈالر) کی رقم ادا کی۔

اس نے میڈیا کو بتایا کہ اسے سرجری سے پہلے بتایا کیا گیا کہ یہ امکان موجود ہے کہ اسے لگایا جانے والا گردہ رقم کے عوض خریدا گیا ہو۔

جاپان کے معروف انگریزی اخبار ’’جاپان ٹائمز‘‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گردے ٹرانسپلانٹ کروانے والے ایک اور مریض کی سرجری کے بعد پیچیدگیاں پیدا ہو جانے کے باعث اسے فوری طور پر جاپان منتقل کر دیا گیا ہے۔

اعضاء کی ٹریفکنگ پاکستان اور جاپان دونوں میں غیر قانونی ہے اور ایسی سرجریاں کروانے والوں پر فرد جرم عائد کی جا سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زندہ اعضاء کی پیوندکاری سے صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ ٹرانسپلانٹ ہونے والے انسانی عضو کو مریض کا جسم قبول کر لے۔

منگل کے روز ان چار جاپانی مریضوں سے متعلق پاکستان میں گردوں کی پیوندکاری کے واقعات منظر عام پر آنے کے بعد جاپان کی صحت، لیبر اور ویلفیئر کی وزارتوں نے اس سلسلے میں تفصیلات جمع کرنی شروع کر دی ہیں تاکہ اعضاء کی ٹریفکنگ کی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات کیے جا سکیں۔

جاپانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان میں گردے کی پیوندکاری کے حصول میں مدد فراہم کرنے والی جاپانی کمپنی نے اس بارے میں کوئی وضاحت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم اس کمپنی کی ویب سائٹ پر بتایا گیا ہے کہ وہ کم سے کم 400 مریضوں کو ٹرانسپلانٹ کیلئے چین اور فلپائن بھجوا چکی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ امریکہ سمیت بیشتر مغربی ممالک غیر ملکیوں کو ٹرانسپلانٹ کی سہولتیں فراہم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے پیوندکاری کے منتظر صاحب حیثیت مریض پاکستان سمیت ایسے ممالک کا رخ کرنے لگے ہیں جہاں یہ سرجری قانونی یا غیر قانونی طور ممکن ہوتی ہے۔

جاپان کے اہیلے پریفیکچر کے اوواجیما توکیوشوکوئی اسپتال کے ٹرانسپلانٹ کے ماہر سرجن ماکوتو منامی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گردے کی پیوندکاری کرانے والے چاروں جاپانی مریض سرجری کے بعد پیچیدگیاں پیدا ہو جانے کے باعث علاج کیلئے ان کے پاس پہنچے، جن کا علاج جاری ہے۔

جاپان کے انسانی اعضاء کی پیوندکاری سے متعلق نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ اس سال جولائی کے آخر تک گردے کے ٹرانسپلانٹ کے خواہش مند 12,000 افراد ان کی ویٹنگ لسٹ پر موجود ہیں۔ تاہم اب تک صرف 100 کے لگ بھگ ایسے لوگوں کے گردوں کے عطیات دستیاب ہو سکے ہیں جنہیں دماغی طور پر مردہ قرر دیا جا چکا ہو۔ یوں گردے کی پیوندکاری کے خواہش مند مریضوں کو اوسطاً 15 سال تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

پاکستان میں گردوں کی غیر قانونی تجارت کو روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم پاکستان کے غربت زدہ علاقوں میں ایسے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو رقم کے عوض اپنے گردے فروخت کر دیتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان میں اگرچہ حکومت گردوں کی تجارت میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کر رہی ہے، اس کے باوجود ہر سال غیر قانونی طور پر 100 کے لگ بھگ گردوں کی پیوندکاری کی جاتی ہے جس پر تقریباً 46,000 ڈالر کی لاگت آتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG