رسائی کے لنکس

logo-print

چار دہائیوں بعد بھی افغانستان کی قسمت نہ بدلی


فائل فوٹو

شورش زدہ افغانستان کے عوام 40 سال گزر جانے کے باوجود اب بھی امن کے متلاشی ہیں۔ روسی مداخلت، خانہ جنگی، طالبان حکومت اور امریکی حملے کے باعث تشدد کے واقعات تواتر سے افغانستان کے طول و عرض میں رونما ہوتے رہتے ہیں۔

گزشتہ 40 سال کے دوران افغان جنگ کے باعث ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔ افغانستان کی صورتِ حال کے سیاسی اور جغرافیائی اثرات پورے خطے کی سیاست پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔

ویسے تو افغانستان میں اندورنی خلفشار اور بیرونی جارحیت کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری تھا۔ لیکن دسمبر 1979 میں سابق سوویت یونین کے لگ بھگ ایک لاکھ مسلح افواج کے داخلے کے ساتھ یہ ملک عالمی سطح پر جاری 'سرد جنگ' کے آخری میدان جنگ میں تبدیل ہو گیا۔

دسمبر 1979 کے اختتام پر جب افغانستان میں سابق سوویت یونین (موجودہ روس) کی افواج نے چڑھائی کر کے افغانستان کی پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی کی حکومت کا خاتمہ کیا۔ اور یوں خود ساختہ جلا وطن رہنما ببرک کارمل افغانستان کے صدر بن گئے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ببرک کارمل کے صدر بننے کے بعد افغانستان میں امریکہ اور خطے کے دیگر ممالک کی مداخلت میں اضافہ ہوا۔ اور اسی دوران افغانستان سے پاکستان ہجرت کرنے والے مذہبی گروہ جہادی قوتوں میں تبدیل ہو گئے۔

ماہرین کے مطابق امریکہ اور پاکستان کے جاسوسی اداروں کی سرپرستی میں سات جہادی تنظیموں کی داغ بیل ڈالی گئی۔ ان جہادی قوتوں نے نہ صرف افغانستان میں سویت یونین کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ بلکہ سوویت یونین کے خاتمے کے ساتھ ہی دنیا بھر میں امریکی قیادت میں 'یونی پولر' نظام وجود میں آ گیا۔ جس کے خلاف اب بھی مزاحمت کا سلسلہ جاری ہے۔

1979 میں سابق سوویت یونین کے افغانستان میں داخلے کے ساتھ جنم لینے والا اندرونی خلفشار اب بھی برقرار ہے۔ بادشاہت کے خاتمے کے بعد افغانستان میں جمہورہت اور سوشلزم کی بنیاد پر جنم لینے والی تحریکیں بھی کامیاب نہ ہو سکیں۔

اسی طرح سابق سوویت یونین کو شکست دینے کا دعوٰی کرنے والے مجاہدین رہنما اور جماعتیں بھی سابق صدر حامد کرزئی کے قیادت میں اسلامی نظام حکومت کو مستحکم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

نائن الیون کے بعد امریکی حملہ

نائن الیون حملوں کے بعد امریکہ نے افغانستان میں القاعدہ کے خلاف کارروائی کر کے القاعدہ کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے۔ بہت سے القاعدہ رہنما روپوش ہو گئے یا پاکستان چلے گئے۔ البتہ طالبان نے امریکہ کے خلاف مزاحمت کا سلسلہ جاری رکھا۔

افغان طالبان اب بھی افغانستان میں فعال اور ملک کے مختلف حصوں میں اثر رکھتے ہیں۔ امریکہ نے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔ اور فریقین کے مابین بعض معاملات پر اختلاف رائے کے باعث یہ مذاکرات تاحال منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی حملے کے بعد القاعدہ بطور تنظیم کمزور ہوئی۔ لیکن 2 مئی 2011 کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کے باوجود دنیا بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

القاعدہ کے بعد اب دولت اسلامیہ (داعش) دنیا کے لیے بڑا خطرہ بن کر سامنے آئی ہے۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے اور القاعدہ کے نیٹ ورک کو غیر فعال کرنے کے دعووں کے بعد امریکہ نے عراق میں صدام حسین اور لیبیا میں معمر قذافی کے طویل اقتدار کا خاتمہ کیا۔ مصر میں حسنی مبارک کی حکومت کو ختم کرنے میں بھی امریکہ نے اپنا اثر و رُسوخ استعمال کیا۔

البتہ شام میں ایران کی دلچسپی اور اثر و رسوخ کے باعث امریکہ اور اس کے اتحادی یہاں مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

مبصرین کے مطابق امریکہ نے جب افغانستان میں اپنی فوج کم کرنے اور انخلا کا اعلان کیا تو طالبان کی کارروائیوں میں اضافہ ہو گیا۔ اس دوران افغانستان کے اپنے ہمسایہ ملک پاکستان کے ساتھ تعلقات بھی خراب ہو گئے۔

پاکستان، افغانستان تعلقات میں اُتار چڑھاؤ

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات عرصہ دراز سے زیادہ خوش گوار نہیں رہے ہیں۔ مگر سابق سوویت یونین کے خلاف جنگ کے دوران پاکستانی حکام اور افغان جہادی رہنما یک جان دو قالب سمجھے جاتے تھے۔

افغانستان کا یہ الزام رہا ہے کہ پاکستان افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔ اور یہ قوتیں افغانستان کے اندر پُرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ حالیہ عرصے میں دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید تناؤ آ گیا ہے۔

پاکستان کا یہ گلہ رہا ہے کہ افغان حکومت پاکستان کو مطلوب دہشت گردوں خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتی۔

پاکستان اپنے شہروں میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کا ذمہ دار کالعدم تحریک طالبان کو ٹھیراتا رہا ہے۔

ڈیورنڈ لائن اور سرحدی کشیدگی

ویسے تو افغان رہنما اور بعض طبقات نومبر 1893 میں طے پا جانے والے سرحدی معاہدے ڈیورنڈلائن کے خلاف تھے۔ لیکن اگست 1947 میں قیام پاکستان کے بعد اس مخالفت میں تیزی آئی۔

بعض افغان رہنما اب بھی ڈیورنڈ لائن کو مستقل سرحد نہیں سمجھتے۔ اور وقتاً فوقتاً پاکستان اور افغانستان کے بعض رہنما اس حوالے سے بیانات دیتے رہے ہیں۔

لیکن بعض ماہرین کے بقول پاکستان نے سرحد پار دہشت گردی کا عذر پیش کرتے ہوئے ڈیورنڈ لائن کو عالمی سطح پر مستقل سرحد تسلیم کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اور اب پاکستان 50 سے 60 فی صد علاقے پر سرحدی باڑ لگانے کا کام بھی جاری رکھے ہوئے۔

تجزیہ کار ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگانے کے عمل کو پاکستان کی بڑی کامیابی بھی سمجھتے ہیں۔

ماہرین کے بقول عالمی کوششوں کے باوجود بھی افغانستان میں دیرپا قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ لہذٰا دنیا کے بیشتر ممالک افغانستان میں استحکام کے حوالے سے غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اگر جنگ میں تبدیل ہوئی تو ایک بار پھر افغانستان اور پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہو جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG