رسائی کے لنکس

logo-print

کشمیر میں جمہوری آزادیوں کا رپورٹ کارڈ 2018


دنیا بھر میں جمہوری اور صحافتی آزادیوں پر نظر رکھنے والے ایک غیر سرکاری ادارے ’فریڈم ہاؤس‘ کی طرف سے جاری کردہ فریڈم ان دا ورلڈ 2019 کے نام سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں دنیا کے جن ایک سو ملکوں میں جمہوری حقوق، شہری اور صحافتی آزادیوں کی درجہ بندی کی گئی ہے، ان میں پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کے کشمیر میں موجود جمہوری آزادیوں کی الگ الگ درجہ بندی پیش کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ یہ درجہ بندی دو ہزار اٹھارہ کے دوران کی ہے، جب بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کو ہٹا کر کشمیر کو بھارت میں ضم نہیں کیا گیا تھا۔

فریڈم ہاوس کی رپورٹ میں سال دو ہزار اٹھارہ کے دوران بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو جمہوری آزادیوں کی درجہ بندی میں 49 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ یعنی وہاں جزوی طور پر آزادیاں حاصل تھیں۔ جبکہ پاکستان کے زیر انتطام کشمیر میں جمہوری آزادیوں کا درجہ 28 رہا، یعنی آزادیاں حاصل نہیں رہیں۔

کشمیر کے بارے میں مرتب کی جانے والی رپورٹ میں بھارتی حکومت کی جانب سے اپنے زیر انتظام کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت تبدیل کرنے اور وہاں عائد کی گئی حالیہ پابندیوں کا احاطہ نہیں کیا گیا اور اس سلسلے میں تمام جائزے اس سے قبل کی صورت حال کی عکاسی کرتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جموں اور کشمیر کا کنٹرول 1948 سے بھارت اور پاکستان کے درمیان منقسم ہے اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی آئین کی شق 370 کے تحت خاصی حد تک خود مختاری حاصل تھی۔ تاہم، وہاں علیحدگی پسندوں اور عسکریت پسندوں نے بھارتی حکومت کے خلاف باغیانہ سرگرمیاں جاری رکھیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابات کا انعقاد ہوتا رہا۔ تاہم، یہ انتخابات زیادہ تر پر تشدد رہے۔ وہاں بھارتی مسلح افواج پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات متواتر عائد کیے جاتے رہے۔ لیکن ان خلاف ورزیوں پر سزائیں شاذ ہی دی گئیں۔ بدامنی کے دور میں شہری آزادیاں اکثر پابندیوں کا شکار رہیں۔

فریڈم ہاوس رپورٹ 2019 کے مطابق بھارتی زیر انتظام کشمیر میں جمہوری آزادیوں کی درجہ بندی
فریڈم ہاوس رپورٹ 2019 کے مطابق بھارتی زیر انتظام کشمیر میں جمہوری آزادیوں کی درجہ بندی

دوسری جانب، رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دو حصوں یعنی آزاد جموں اور کشمیر، اور گلگت بلتستان میں منتخب اسمبلیاں اور حکومتیں موجود ہیں۔ تاہم، انہیں محدود خود مختاری حاصل ہے۔ انہیں پاکستان کے دیگر صوبوں جیسے اختیارات حاصل نہیں ہیں۔ سیکیورٹی، عدالتوں اور پالیسی سازی کے معاملات میں پاکستان کی وفاقی حکومت کلیدی کردار ادا کرتی ہے اور سیاست کو اس انداز میں ’مینیج‘ کیا جاتا ہے کہ یہاں کے لوگ پاکستان کے ساتھ حتمی الحاق کیلئے تیار رہیں اور کشمیر سے متعلق پاکستانی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف سیاسی اقدامات کو محدود کیا جاتا ہے۔

فریڈم ہاوس رپورٹ 2019 کے مطابق پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں جمہوری آزادیوں کی درجہ بندی
فریڈم ہاوس رپورٹ 2019 کے مطابق پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں جمہوری آزادیوں کی درجہ بندی

رپورٹ میں مختلف شعبوں میں دونوں طرف کے کشمیر کی صورت حال کچھ یوں بیان کی گئی ہے:

2018 کے دوران کلیدی اقدامات

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سال 2018 کے جون میں ریاست میں منتخب مخلوط حکومت کا خاتمہ ہو گیا، جس کے بعد وہاں 6 ماہ کیلئے گورنر راج نافذ کیا گیا۔ 6 ماہ کی مدت گزرنے کے بعد جموں اور کشمیر میں صدر راج نافذ کر دیا گیا۔

وہاں سیکورٹی کی صورت حال مخدوش رہی اور سال کے دوران تشدد میں کم سے کم 451 افراد کی جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ ایک سال قبل 2017 کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 358 تھی۔ جون 2018 میں معروف کشمیری صحافی شجاعت بخاری کو بھی سرینگر میں قتل کر دیا گیا۔

ریاست میں اکتوبر کے دوران میونسپل انتخابات منعقد ہوئے۔ تاہم، حزب اختلاف کی جماعتوں کے بائیکاٹ کے باعث ووٹنگ کی شرح انتہائی کم رہی۔ بعد میں نومبر اور دسمبر کے دوران ہونے والے پنچائتی انتخابات میں ووٹنگ کی شرح نسبتاً زیادہ رہی۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کنٹرول لائن کے آر پار فائرنگ کا سلسلہ مسلسل جاری رہا۔ پاکستانی فوج کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج کی طرف سے کی جانے والی فائرنگ کے نتیجے میں 55 شہری ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

مئی 2018 میں پاکستانی حکومت نے گورنمنٹ آف گلگت بلتستان آرڈر 2018 جاری کیا جس میں پاکستان کی پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے پیش کردہ بیشتر سفارشات کو شامل کیا گیا۔ ان سفارشات میں گلگت بلتستان کو صوبائی حیثیت دیے بغیر صوبے جیسے اختیارات دیے گئے۔ پاکستانی حکومت کے اس اقدام کے خلاف ان حلقوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا جو گلگت بلتستان کو پاکستان کا باقاعدہ صوبہ بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

سیاسی حقوق

کنٹرول لائن کے دونوں اطراف کے کشمیر میں سیاسی حقوق کی صورت کا جائزہ لیتے ہوئے رپورٹ میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو 40 میں سے 22 اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کیلئے 9 پوائنٹ دیے گئے۔ یہ سکور منتخب نمائندگی اور آزادانہ انتخابات کے انعقاد کی بنیاد پر دیا گیا۔

مقامی حکومت کی کارکردگی

اس شعبے میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو 12 میں سے 4 اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو 3 پوائنٹ دیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ دونوں اطراف کے کشمیر میں کرپشن کے خاتمے کے اقدامات کی صورت حال لگ بھگ ایک جیسی رہی۔

شہری آزادیاں

اس ضمن میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو 16 میں سے 9 اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو 6 پوائنٹ دیے گئے۔

تنظیم سازی کے حقوق

اس کیلئے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو 12 میں سے 5 اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو 4 پوائنٹ ملے۔

قانون کی حکمرانی

قانون کی حکمرانی میں بھارت کی جانب والے کشمیر کیلئے 16 میں سے 5 اور پاکستان کی جانب والے کشمیر کیلئے 3 پوائنٹ دیے گئے۔

ذاتی اختیار اور انفرادی حقوق

اس کیلئے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کا سکور 16 میں سے 8 اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا سکور 6 رہا۔

یوں، 2018 کیلئے اس رپورٹ کے مطابق، دونوں اطراف کے کشمیر میں سیاسی اور انفرادی حقوق کی صورت حال کے کچھ حوالوں میں فرق زیادہ اور کچھ میں بہت کم رہا۔

اگست دو ہزار انیس میں بھارتی زیر انتظام کشمیر کی صورتحال میں تبدیلی آئی ہے ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آئیندہ سال جمہوری آزادیوں کے عالمی ریکارڈ میں بھارتی اور پاکستانی زیرانتظام کشمیر کا رپورٹ کارڈ مختلف تصویر پیش کرے گا۔

’فریڈم ہاؤس‘ ایک غیر سرکاری ادارہ ہے جو دنیا بھر میں جمہوریت، سیاسی آزادی اور انسانی حقوق کی صورت حال کے بارے میں تحقیق کر کے ہر سال ایک رپورٹ مرتب کرتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG