رسائی کے لنکس

کیا افغان عملیت پسندوں اور سخت گیر سوچ رکھنے والوں میں رسہ کشی ہے؟


فائل فوٹو

گزشتہ ہفتے طالبان نے سخت گیر سوچ کی حامل کابینہ تشکیل دینے کا اعلان کیا، جس میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہیں جو 90 کی دہائی کی سخت گیر حکمرانی سے وابستہ رہ چکے ہیں، جب کہ حالیہ دنوں کے دوران طالبان سب کی شراکت پر مبنی حکمرانی کی بدلی ہوئی سوچ پر مبنی دعوے کرتے رہے ہیں۔

دو افغان جو اقتدار کی اندرونی کشمکش کے ماحول سے واقف ہیں، کہتے ہیں کہ کابینہ کے اعلان کے بعد عملیت پسند اور نظریاتی خیالات کے ہمنوا طالبان کے درمیان رشہ کشی دکھائی دی۔

بتایا جاتا ہے کہ پردے کے پیچھے یہ کشمکش جاری ہے۔ لیکن فوری طور پر یہ افواہیں گردش کرتی رہیں کہ قصر صدارت میں دو قسم کی سوچ رکھنے والے طالبان کے مابین حالیہ دنوں شدید محاذ آرائی سامنے آئی، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ عملیت پسند راہنما، عبد الغنی برادر ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ افواہیں اتنی شدت سے پھیلیں کہ ملا برادر نے ایک آڈیو ریکارڈنگ اور تحریری بیان جاری کیا، جس میں ان دعوؤں کو مسترد کیا گیا۔ پھر بدھ کے روز برادر ملک کے قومی ٹیلی ویژن پر انٹرویو دیتے ہوئے نظر آئے۔

افواہ کے بارے میں ملا برادر نے کہا کہ ''میں کابل سے باہر سفر پر تھا، اس لیے میری رسائی ذرائع ابلاغ تک نہیں تھی کہ میں اس خبر کو مسترد کرتا''۔

طالبان اور امریکہ کے مابین مذاکرات کے دوران برادر طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ رہ چکے ہیں، جس بات چیت کے نتیجے میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کی راہ ہموار ہوئی اور اگست کے اواخر میں مکمل کیا گیا، جس سے دو ہفتے قبل طالبان نے دارالحکومت کابل پر قبضہ کیا۔

ملک کا اقتدار سنبھالنے کے بعد برادر طالبان کے وہ پہلے سینئر اہل کار ہیں جنھوں نے سب کی شمولیت والی حکومت کے امکان کا یقین دلایا، لیکن گزشتہ ہفتے طالبان مردوں ہی پر مشتمل کابینہ کی تشکیل کے بعد اس سلسلے میں تمام امیدوں پر پانی پھر گیا۔

سخت گیر طالبان کی زور آوری کا اس وقت مزید یقین ہوا جب قصر صدارت پر افغان قومی پرچم کی جگہ سفید رنگ کا طالبان کا جھنڈا لہرایا گیا۔

طالبان کے ایک اہل کار نے بتایا کہ قیادت نے ابھی پرچم سے متعلق حتمی فیصلہ نہیں کیا، جب کہ متعدد حضرات کی سوچ یہی دکھائی دیتی ہے کہ دونوں پرچم ایک ساتھ لہرائے جائیں گے۔ انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ بات بتائی، چونکہ انھیں میڈیا کے ساتھ داخلی گفت و شنید عام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

دو افغان ذرائع نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی ہے، جن کے تحفظ کی خاطر ان کا نام صیغہ راز میں رکھا گیا ہے، جنھوں نے کابینہ کی تشکیل سے متعلق اختلاف رائے کے بارے میں بتایا۔ انھوں نے کہا کہ کابینہ کے ایک وزیر نے اپنا قلم دان قبول کرنے سے انکار کیا، چونکہ انھیں حکومت میں صرف طالبان ہی کی شمولیت پر اعتراض تھا، جس کی وجہ سے ملک کی نسلی اور مذھبی اقلیتوں کو نمائندگی نہیں مل سکی۔

طالبان کے ترجمان، ذبیح اللہ مجاہد نے قیادت میں کسی قسم کی دراڑیں پڑنے کی چہ مہ گوئیوں کو مسترد کیا ہے۔ منگل کے روز طالبان کے وزیر خارجہ، امیر خان متقی نے ایسی تمام خبروں کو ''پروپیگنڈا'' قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔

یہ بات نوٹ کی گئی تھی کہ اہم سیاسی تقریبات میں برادر موجود دکھائی نہیں دیتے۔ مثال کے طور پر اس ہفتے قصر صدارت میں ہونے و الی تقریب میں برادر موجود نہیں جس میں قطر کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبد الرحمٰن الثانی کو خوش آمدید کہا گیا،جو طالبان کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک کا دورہ کرنے والے پہلے اعلیٰ سطحی غیر ملکی راہنما تھے۔ برادر کی عدم موجودگی اس لیے خاص طور پر نوٹ کی گئی چونکہ وہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کی میزبانی کے فرائض انجام دیتے رہے تھے۔

لیکن کل سامنے آنے والے انٹرویو میں برادر نے بتایا کہ وہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے چونکہ انھیں قطری وزیر خارجہ کے دورہ کابل کا علم نہیں تھا۔ برادر کے بقول، ''میں اس سے پہلے کابل سے باہر سفر پر تھا اور جلد واپس نہیں آ سکتا تھا''۔

برادر سے مستقل رابطےمیں رہنے والے متعدد اہل کاروں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ وہ ملک کے جنوب مغرب میں واقع صوبائی دارالحکومت، قندھار میں تھے جہاں ان کی ملاقات طالبان لیڈر ہبت اللہ اخونزادہ سے طے تھی۔ ایک اور طالبان شخص نے بتایا کہ وہ اپنے اہل خانہ سے ملنے گئے تھے جن سے وہ گزشتہ 20 سال کے دوران نہیں مل پائے تھے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت سوچ کا یہ فرق طالبان کے لیے زیادہ مشکل پیدا کرنے کا باعث نہیں ہو گا۔

واشنگٹن میں قائم ولسن سینٹر میں ایشیا پروگرام کے معاون سربراہ، مائیکل کوگلمین نے کہا ہے کہ ''ہم گزشتہ برسوں کے دوران ملاحظہ کر چکے ہیں کہ تنازعات کے باوجود طالبان زیادہ تر ہم آہنگ ادارے کے طور پر کام کرتے ہیں؛ اور اہم فیصلوں کے دوران کوئی خاص اختلاف ان کے آڑے نہیں آتا''۔

بقول ان کے، ''میرے خیال میں وہ داخلی اختلاف رائے سے نمٹ لیں گے۔ تاہم، جب وہ اپنے اقتدار کو مضبوط کریں گے، اپنی قانونی حکمرانی منوائیں گے اور اہم پالیسی چیلنجوں سے نبردآزما ہوں گے، اس وقت ان پر بہت سارا دباؤ آ سکتا ہے۔ اگر یہ کوششیں ناکام ہوتی ہیں تو دباؤ کی شکار تنظیم کے طور پر اندرونی کھینچا تانی بڑھ بھی سکتی ہے''۔

تاہم، طالبان کو درپیش اس تقسیم کو مٹانا ایک مشکل امر ہو گا، جس کے لیے گروپ کے بانی ملا عمرجیسا سخت گیرحکمراں درکار ہو گا، جو اپنے لیے غیر مشروط وفاداری پر عمل درآمد کرایاکرتا تھا۔

(اس خبر میں فراہم کردہ معلومات ایسوسی ایٹیڈ پریس سے لی گئی ہیں )

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG