رسائی کے لنکس

logo-print

غزہ میں جنگی جرائم کی تحقیقات کے مستند ہونے کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا: بن گی مون


اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ وہ اس بات کا تعین نہیں کر سکتے کہ آیا اسرائیل اور فلسطینیوں نے غزہ کی پٹی میں مبینہ جنگی جرائم کی کوئی مستندغیر جانبدارانہ چھان بین کرائی تھی۔ مسٹر بان نے کہا کہ انہوں نے یہ اندازہ جمعرات کی رات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کی گئی رپورٹ کی بنیاد پر یہ لگایا ۔

انہوں نے کہا کہ یہ چھان بین جو اسرئیل نے شروع کی تھی جاری ہے اور یہ کہ فلسطینی جانب سے یہ سلسلہ صرف دس روز قبل شروع کیا گیا تھا۔


جنرل اسمبلی نے دونوں فریقوں کو اقوام متحدہ کے اس پینل کے الزامات کی چھان بین کے لیے جمعے تک کی مہلت دی تھی کہ اسرائیل اور حماس کے عسکریت پسندوں نے ایک سال سے زیادہ عرصے قبل غزہ کی جنگ کے دوران جنگی جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔


29 جنوری کو اسرئیل نے اقوام متحدہ کو پیش کی گئ ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ اس نے جنگ کے دوران مناسب انداز میں اقدامات کیے تھے۔ اسی دن فلسطینی اتھارٹی نے اقوام متحدہ کو ایک ابتدائی رد عمل پیش کیا تھا۔

مسٹر بن نے بدھ کے روز کہا تھا کہ انہیں حماس کی جانب سے کوئی چیز نہیں ملی ہے ۔


حماس اقوام متحدہ کے پینل کی رپورٹ کے نتائج کو کھلم کھلا مسترد کر چکی ہے اور اس کا اصرار ہے کہ اس نے سرحد پار راکٹ اور گولے داغتے ہوئے اسرائیلی شہریوں کو ہدف بنانے سے اجتناب کیا تھا۔


اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے مسٹر بن سے کہا تھا کہ وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کی جانب سے اس قرار داد کی تعمیل کے بارے میں جمعے تک رپورٹ پیش کریں جو اسمبلی نے تین ماہ قبل منظور کی تھی۔


اسمبلی نے گولڈسٹون نامی اس رپورٹ کی توثیق کی تھی جس میں اسرائیل اور حماس پر غزہ کے تنازعے کے دوران جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG