رسائی کے لنکس

logo-print

ہاتھوں سے معذور طالبہ نے خوش نویسی کا مقابلہ جیت لیا


انایا پیدائشی طور پر دونوں ہاتھوں سے معذور ہے لیکن وہ مصنوعی ہاتھوں کا استعمال کرنے کے بجائے اپنے بازوں کی مدد سے لکھتی ہے۔

امریکی ریاست ورجینیا سے تعلق رکھنے والی سات سالہ انایا ایلک ایک غیر معمولی لڑکی ہے جس نے دونوں ہاتھوں سے معذور ہونے کے باوجود خوش نویسی کا قومی مقابلہ جیت لیا ہے۔

انایا ایلک چیساپیک کی گرین برائیرکرسچن اکیڈمی میں پہلی جماعت کی طالبہ ہے اس نے خوش نویسی کے مقابلے میں اسپشل نیڈز یا خصوصی ضروریات کے زمرے میں انعام حاصل کیا ہے۔

زینر بلوسر ایجوکیشن کے فیس بک کے مطابق خوبصورت لکھائی کا یہ مقابلہ پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے درمیان تھا جس میں ملک بھر سے ذہنی اور جسمانی معذوری کا سامنا کرنے والے طالب علموں نے حصہ لیا تھا۔

اپنی خوبصورت لکھائی کے لیے اس نے 'زینر بلوسر ایجوکیشن' کی طرف سے منعقدہ نیشنل ہینڈ رائٹنگ مقابلے کا ایک ہزار ڈالر کا انعام اور ایک بڑی ٹرافی جیتی ہے جبکہ اپنے اسکول کے لیے بھی ایک گفٹ سرٹیفیکٹ حاصل کیا ہے۔

انایا پیدائشی طور پر دونوں ہاتھوں سے معذور ہے لیکن وہ مصنوعی ہاتھوں کا استعمال کرنے کے بجائے اپنے بازوں کی مدد سے لکھتی ہے۔

خصوصی ضروریات کے زمرے میں طلبہ کی کارکردگی کا جائزہ تعلیمی تھراپسٹ کے ایک پینل کی طرف سے لیا گیا جس میں ملک بھر سے حصہ لینے والے 50 طالب علموں کے مقابلے میں انایا کو خوش نویس قرار دیا گیا اور اسے نکولس میکسم اسپیشل ایوارڈ سے نوازا گیا ۔

اے بی سی نیوز کے مطابق گرین برائیر کرسچن اکیڈمی کی پرنسپل ٹریسی کاکس نے انایا کی حیرت انگیز کامیابی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک محنتی، پرعزم اور خودمختار لڑکی ہے اور وہ بہت کم لوگوں کی مدد لینا چاہتی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بہت ہی کم چیزیں ایسی ہیں جو وہ نہیں کرسکتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ اسی کا خیال تھا کہ وہ خوشخطی کے قومی مقابلے میں شرکت کرے۔

مقابلے کی ڈائریکٹر کیتھلین رائٹ نے کہا کہ ہم نے اس کی تحریر کو دیکھا اور یہ دیکھکر حیران رہ گئے کہ اس کی لکھائی کتنی خوبصورت ہے جبکہ وہ ہاتھوں سے محروم ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ وہ نہیں سمجھتیں ہیں کہ اینایا اس معذوری کو اپنے لیے رکاوٹ سمجھتی ہے۔

XS
SM
MD
LG