رسائی کے لنکس

logo-print

گلوبل وارمنگ سے ملیریا پھیلنے کا خدشہ، رپورٹ


عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار کےمطابق دنیامیں ہر سال چھ لاکھ افراد ملیریا کے باعث موت کا شکار ہوجاتے ہیں اور براِ عظم افریقہ اس مرض کا خاص نشانہ بنتا ہے۔

امریکی اور برطانوی محققین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کے نتیجے میں ملیریا جیسی جان لیوا بیماری وبا کی صورت اختیار کرکے کئی نئے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

جریدے 'سائنس' کی تازہ اشاعت میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں محققین نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے وبائی امراض پر اثرات سے متعلق اہم شواہد حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

مضمون کےمطابق کولمبیا اور ایتھوپیا میں کی جانے والے تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ گرم موسم میں ملیریا کا مرض بڑھ جاتا ہے جب کہ کم درجہ حرارت والے مہینوں میں اس کے پھیلاؤ میں کمی آتی ہے۔

محققین نے لکھا ہےکہ اگر 'گلوبل وارمنگ' کے زیرِ اثر دنیا کے درجۂ حرارت میں اضافہ ہوتا رہا تو بالائی خطوں میں آباد افراد کے ملیریا کا شکار ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے کیوں کہ ماضی میں انہیں اس مرض سے واسطہ نہیں پڑا اور وہ اس سے بچاؤ کی تدابیر سے ناواقف ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار کےمطابق دنیامیں ہر سال چھ لاکھ افراد ملیریا کے باعث موت کا شکار ہوجاتے ہیں اور براِ عظم افریقہ اس مرض کا خاص نشانہ بنتا ہے۔

خیال رہے کہ مچھروں کے ذریعے پھیلنے والے اس مرض سے کیڑے مار ادویات اور مچھر دانی کے استعمال اور بروقت علاج کے ذریعے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔
XS
SM
MD
LG