رسائی کے لنکس

گودھرا ٹرین حملہ، 11 ملزمان کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل


2002 میں آتشزدگی کا شکار ہونے والے ٹرین (فائل فوٹو)

اس واقعے کے بعد بھارت کی ریاست گجرات میں ہونے والے ہندو مسلم فسادات میں ڈھائی ہزار افراد مارے گئے تھے جن کی اکثریت مسلمان تھی۔

بھارت کی ریاست گجرات کی ایک عدالت نے 2002ء میں ہندو یاتریوں کی ٹرین کو آگ لگانے کے مجرم 11 افراد کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا ہے۔

ملزمان کو ایک مقامی عدالت نے 2011ء میں موت کی سزا سنائی تھی جسے پیر کو گجرات کی ہائی کورٹ نے نظرِ ثانی کی درخواستوں کی سماعت مکمل ہونے کے بعد دیے جانے والے فیصلے میں عمر قید میں تبدیل کردیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ گودھرا کے مقام پر ہونے والی یہ کارروائی "دہشت گردی" نہیں تھی لہذا ان افراد کو سزائے موت دینا درست نہیں۔

مقدمے میں استغاثہ کے وکیل جے ایم پنچل نے پیر کو عدالتی فیصلے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے ذیلی عدالت سے مقدمے میں عمر قید پانے والے 20 افراد کی سزاؤں کے خلاف اپیلیں مسترد کرتے ہوئے ان کی سزائیں برقرار رکھی ہیں۔

ہائی کورٹ نے ریاست کی حکومت اور ریلوے حکام کو واقعے میں ہلاک ہونے والے ہر یاتری کے خاندان کو 10، 10 لاکھ روپے زرِ تلافی ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

اس مقدمے میں کل 94 افراد کو نامزد کیا گیا تھا جو تمام کے تمام مسلمان تھے۔ مقدمے کی سماعت کرنے والی مقامی عدالت نے 2011ء میں اپنے فیصلے میں 94 میں سے 63 افراد کو بری کردیا تھا۔

دیگر 31 ملزمان کو قتل، اقدامِ قتل اور مجرمانہ سازش جیسے الزامات کے تحت عدالت نے موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی تھیں جن کے خلاف انہوں نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

مقدمے میں نامزد تمام افراد ٹرین کو آگ لگانے میں ملوث ہونے کی تردید کرتے رہے ہیں۔

فروری 2002ء میں گجرات کے دارالحکومت احمد آباد سے 130 کلومیٹر دور واقع گودھرا کے ریلوے اسٹیشن پر پیش آنے والے اس واقعے میں 59 ہندو یاتری ہلاک ہوگئے تھے۔

اس واقعے کے بعد بھارت کی ریاست گجرات میں ہونے والے ہندو مسلم فسادات میں ڈھائی ہزار افراد مارے گئے تھے جن کی اکثریت مسلمان تھی۔

واقعےکے وقت بھارت کے موجودہ وزیرِاعظم نریندر مودی گجرات کے وزیرِ اعلیٰ تھے جن پر کئی حلقے فسادات کو روکنے کی کوشش نہ کرنے اور ریاست میں آباد مسلمانوں پر ہندو انتہا پسندوں کے حملوں کی درپردہ حمایت کرنے کے الزامات بھی عائد کرتے ہیں۔

تاہم بعد ازاں فسادات کی عدالتی تحقیقات کرنے والے ایک کمیشن نے نریندر مودی پر عائد ان الزامات کو غلط قرار دے دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG