رسائی کے لنکس

فضائی، پیٹرولیم کمپنیوں پر سائبر حملوں کا ایران سے ممکنہ تعلق


ایک ہیکر ووٹنگ مشین سے ڈیٹا چرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ فائل فوٹو

فائر آئی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپنیوں کے کمپیوٹر سسٹمز تک ہیکروں کی رسائی چار سے چھ مہینوں برقرار رہی جس دران ہیکرز معلومات چرا تے رہے۔

ایک امریکی سائبر سیکیورٹی کمپنی فائر آئی نے بدھ کے روز کہا کہ امریکہ، سعودی عرب اور جنوبی کوریا میں فضائی اور پٹرولیم کمپنیوں پر جن ہیکروں نے سائبر حملے کیے تھے ان کا تعلق ایران سے تھا۔

فائر آئی نے ایران کے ہیکر گروپ کو اے پی ٹی 33 کی کیٹگری میں رکھا ہے جس سے مراد زیادہ خطرے کا امکان ہے۔ یہ گروپ ان کمپنیوں کے کمپوٹر سسٹم تک رسائی کے لیے، جو ان کا ہدف ہو ں، گمراہ کرنے والی ای میلز اور جعلی اداروں کے نام استعمال کرتا ہے۔

رپورٹ میں یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ ہیکرز نے فضائی کمپنیوں کو اس لیے اپنا ہدف بنایا تاکہ وہاں سے معلومات چرا کر انہیں ایران کے فضائی نظام کو بہتر بنانے اور ایران کی فوجی صلاحیتوں کو سعودی عرب کے حوالے سے ترقی دینے میں استعمال کیا جا سکے۔

فائر آئی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپنیوں کے کمپیوٹر سسٹمز تک ہیکروں کی رسائی چار سے چھ مہینوں برقرار رہی۔ اس دوران ہیکرز معلومات چرا تے رہے اور ان کمپیوٹر وں میں ایسا وائرس چھوڑ تے رہے جسے کمپیوٹر کے نظام کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

فائر آئی کا کہنا ہے کہ درستگی کے ساتھ کسی گروپ پر سائبر حملوں کا إلزام عائد کرنا بہت مشکل ہے، تاہم ان کا تعلق جزوی طور پر ایران کے اندر کسی گروپ سے بنتا ہے کیونکہ ان کی جانب سے کمپیوٹروں میں چھوڑے جانے والے وائرس کی کچھ کوڈنگ کی شناخت ہو گئی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وائرس میں فارسی زبان کے کچھ حوالے موجود تھے اور وہ ایک ایسے وقت میں فعال ہوئے تھے جب ایران میں دن ہوتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG