رسائی کے لنکس

logo-print

حافظ سعید کے ساتھ فلسطینی سفیر کی موجودگی:فلسطینی سفیر کو واپس بلا لیا گیا


حافظ سعید۔ فایل فوٹو

نئی دہلی۔ سہیل انجم

بھارت نے جمعہ کے روز راولپنڈی میں منعقد ہونے والی جماعت الدعوی کے سربراہ حافظ سعید کی ریلی کے دوران اسٹیج پر حافظ سعید کے ساتھ پاکستان میں فلسطینی سفیر ولید ابو علی کی موجودگی پر سخت اعتراض کیا تھا اور کہا تھا کہ اسے قطعی تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے رد عمل میں فلسطینی حکومت نے معذرت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ فلسطین نے اس واقعہ پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے اور یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ حافظ سعید کے ساتھ اپنے سفیر کی موجودگی پر سخت کارروائی کرے گا۔

بیان کے مطابق بھارتی حکومت نے فلسطین سے سخت الفاظ میں کہا تھا کہ حافظ سعید کے ساتھ جو کہ ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ ہیں اور جن کو اقوام متحدہ نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے، فلسطینی سفیر کی موجودگی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

فلسطین نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ نئی دہلی کے ساتھ اپنے تعلقات کے پیش نظر وہ ان دہشت گردوں سے کوئی تعلق نہیں رکھے گا جو کہ بھارت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ فلسطین بھارت کے ساتھ اپنے رشتوں کو بہت اہمیت دیتا ہے اور وہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں اس کے ساتھ کھڑا ہے اور بھارت کے خلاف دہشت گردانہ وارداتیں انجام دینے والے عناصر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھے گا۔

حافظ سعید کے ساتھ فلسطینی سفیر کی موجودگی پر نئی دہلی میں بہت سے لوگوں نے ناراضگی اور مایوسی کا اظہار کیا تھا کیونکہ ابھی ایک ہفتہ قبل ہی بھارت نے یروشلم کو اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کرنے کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ میں ووٹ دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی فروری میں فلسطین کا دورہ کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں دونوں فریقوں میں تبادلہ خیال ہو رہا ہے۔

بھارت فلسطین کی ہر ممکن مدد کرتا آیا ہے۔ حالیہ برسوں میں اس نے فلسطین کو 60 ملین ڈالر کی امداد دی ہے جس میں غزہ میں تعمیر نو کے لیے چار ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔ سیکڑوں فلسطینی طلبہ بھارت میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ وہ دیگر ترقیاتی منصوبوں میں بھی فلسطین کی مدد کرتا آیا ہے

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG