رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی بھارت میں شدید گرمی کی لہر، 160 سے زائد افراد ہلاک


فائل فوٹو

اس وقت شمالی بھارت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔ دنیا کے 15 گرم ترین مقامات میں سے دس اسی خطے سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان میں سرِ فہرست راجستھان کا شہر چورو ہے جہاں درجہ حرارت 50.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا چکا ہے۔ دوسرے نمبر پر اسی ریاست کا گنگا نگر ہے جہاں درجہ حرارت 49 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر ہے۔

اس فہرست میں اترپردیش کے باندہ اور ہریانہ کے نرنول بھی شامل ہیں۔

گرمی اور لو کی وجہ سے بہت سے علاقوں میں پانی کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق راجستھان، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش میں ایک ہفتے تک گرم ہوائیں اور لو کے جھکڑ چل سکتے ہیں۔

لو اور گرمی سے اب تک پورے ملک میں 160 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

محکمہ موسمیات نے دارالحکومت دہلی، پنجاب، ہریانہ اور چندی گڑھ کے لیے ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئندہ تین دنوں تک مزید گرم ہواؤں کے جھکڑ چلتے رہیں گے۔

محکمہ نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ صرف اشد ضرورت کے لیے ہی گھر سے باہر نکلیں اور خاص طور پر بچوں کو باہر نہ نکلنے دیں۔ پانی کا زیادہ استعمال کریں اور جسم میں پانی کی قلت نہ ہونے دیں۔

دہلی میں درجہ حرارت 46 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر جا چکا ہے۔

محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل بی پی گپتا کے مطابق ابھی درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہو گا اور گرمی اور بڑھ سکتی ہے۔

محکمے کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین چار دنوں میں شمالی حصے میں گرمی بڑھ گئی ہے اور دہلی، پنجاب، ہریانہ اور بعض دیگر ریاستوں میں ابھی یہ صورت حال برقرار رہے گی۔

تاہم محکمہ موسمیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ آنے والے چند دنوں میں اتر کھنڈ میں بارش ہونے اور جنوبی کرناٹک میں گرج چمک کے ساتھ بجلی چمکنے اور بعض دیگر ریاستوں میں تیز ہواؤں کے چلنے کا امکان ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG